شام میں خدام کی اپنی زندگی وموت کی کہانی اسی کی زبانی

شام میں خدام کی اپنی زندگی وموت کی کہانی اسی کی زبانی

بدھ, 1 April, 2020 - 16:00
2011 میں برسلز میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے عبد الحلیم خدام کو دیکھا جا سکتا ہے (رائٹرز)
عبد الحلیم خدام کی زندگی میں ان کی کیریئر اور دمشق میں جو عہدے سنبھالے ہیں وہاں سے لے کر ان کی پیرس میں ہونے والی موت تک کی داستاں نے حالیہ دس سالوں میں شام کی تاریخ کا ایک اہم پہلو کو بیان کیا ہے۔
انہوں نے اپنی زندگی بعث پارٹی سے منسلک ہوکر شروع کی ہے، پھر وہ حماۃ گورنریٹ کے گورنر بنے یہاں تک اسے بم سے اڑایا گیا اور وہ قنیطرہ کے بھی اس وقت ذمہ دار جب اس پر قبضہ کیا گیا، وہ اپنے دوست حافظ الاسد کی علالت میں ان کے قریب تھے اور ان کے صحت یاب ہونے کے بعد انہیں نائب صدر مقرر کیا گیا اور انہوں نے لبنان فائل کی نگرانی کی اور انہوں نے اس سے نکلتے ہوئے بھی دیکھا اور انہوں نے آخری چند سال جلاوطنی میں بھی گزارا اور وہ اپنے ملک کی طرح بیمار تھے جب انہوں نے اسے چھوڑا۔
خدام 1932 میں بانیاس میں پیدا ہوئے اور انہوں نے دمشق یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی جہاں وہ اس بعث پارٹی میں شمولیت اختیار کی جو مارچ 1963 کی بغاوت کے بعد حکمران بنی۔(۔۔۔)
بدھ 08 شعبان المعظم 1441 ہجرى - 01 اپریل 2020ء شماره نمبر [15100]

انتخاباتِ مدير

ملٹی میڈیا