کاظمی کو ذمہ دار بنائے جانے کے سلسلہ میں سنی اور کردوں کی حمایت

کاظمی کو ذمہ دار بنائے جانے کے سلسلہ میں سنی اور کردوں کی حمایت

جمعرات, 9 April, 2020 - 10:30
گزشتہ روز وسطی بغداد کے علاقے تحریر اسکوائر میں ایک عراقی خاتون کو دھرنے کے خالی خیمہ کے سامنے سے گزرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے (اے ایف پی)
ایک طرف نامزد وزیر اعظم عدنان الزرفی کو دستبردار ہونے کے لئے راضی کرنے کی کوششیں جاری ہیں تود وسری طرف عراق میں انٹلیجنس سروس کے ڈائریکٹر مصطفی الکاظمی کو اگلی عراقی حکومت تشکیل دینے کے سلسلہ میں سنی اور کرد حمایت حاصل ہوئی ہے۔
پارلیمنٹ کے سب سے بڑے سنی بلاک "عراقی افواج اتحاد" نے انٹیلیجنس سروس کے ڈائریکٹر کو ذمہ دار بنائے جانے کے سلسلہ میں شیعہ افواج کی اکثریت کے مابین غیر سرکاری اتفاق رائے کی حمایت کرنے کا اعلان کیا ہے اور اس اتحاد نے گزشتہ روز ایک بیان میں کہا ہے کہ وزیر اعظم کے امیدوار کو اس بات کا خیال رکھنا چاہئے کہ اسے پارلیمنٹ میں اپنی حکومت کے لئے ووٹ حاصل کرنا ہے لہذا وہ نامزدگی کے ذمہ دار سیاسی اجزاء کی قوتوں کی منظوری اور حمایت حاصل کرے اور وہ قومی سطح پر اپنی مقبولیت بھی حاصل کرے اور اسی بنیاد پر عراقی افواج کے اتحاد نے اس بات کی تاکید کی ہے کہ نئی حکومت کی سربراہی اور تشکیل دینے کے لئے مسٹر مصطفیٰ الکاظمی کو اس کی حمایت حاصل ہے اور انہیں نامزدگی سے متعلق سیاسی بلاکس کی بھی حمایت حاصل ہوگی۔(۔۔۔)
جمعرات 16 شعبان المعظم 1441 ہجرى - 09 اپریل 2020ء شماره نمبر [15108]

انتخاباتِ مدير

ملٹی میڈیا