طرابلس پانی کے بغیر اور ملیشیاؤں پر اس کا الزام

طرابلس پانی کے بغیر اور ملیشیاؤں پر اس کا الزام

ہفتہ, 11 April, 2020 - 17:30
لیبیا کے دار الحکومت طرابلس میں رہنے والے لوگ جنگ کی خبروں اور میزائلوں سے اندھا دھند گولہ باری کی آوازوں سے ہٹ کر تازہ پانی کے گیلن خریدنے کی طرف متوجہ ہو گئے ہیں؛ کیونکہ تین دنوں سے ان کے گھروں میں پانی نہیں آ رہا ہے اور ان پورے علاقہ میں بجلی کے کٹ جانے کی وجہ سے اندھیرا ہی اندھیرا ہے۔
فائز السراج کی سربراہی میں وفاقی حکومت سے وابستہ "برکان الغضب" نامی آپریشن نے "نیشنل آرمی" کے رہنما فیلڈ مارشل خلیفہ حفتر کے ملیشیاؤں پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے سیدی السائح علاقے میں اس گیس پائپ لائن کو بند کر دیا ہے جس سے مغربی علاقہ میں بجلی پاور اسٹیشنوں کو سپلائی ملتی ہے اور انہوں نے اس سے قبل شہریوں کو پیاسا رکھنے کے مقصد سے مغربی خطے میں دریا سے سپلائی ہونے والے پانی کے پائپ کو بند کردیا تھا لیکن ایک فوجی ذمہ دار نے الشرق الاوسط سے گفتگو کرتے ہوئے اس بات کی نفی کی ہے کہ قومی فوج نے ایسا کیا ہے اور صرف یہ کہنے پر اکتفا کیا ہے کہ ایسا نا معلوم گروپ نے کیا ہے اور جنرل الیکٹرک کمپنی نے بھی ایسا ہی کہا ہے۔(۔۔۔)
ہفتہ 18 شعبان المعظم 1441 ہجرى - 11 اپریل 2020ء شماره نمبر [15110]

انتخاباتِ مدير

ملٹی میڈیا