رائٹرز اور دانشوروں کی نیک خواہشات الگ تھلگ رہنا ہے تاکہ وہ اپنے کاموں میں خود کو لگا سکیں لیکن لاکھوں افراد کی طرح کرونا وائرس کے ذریعہ مسلط جبری تنہائی میں دانشور کیسے گذارتے ہیں؟ کیا یہ تنہائی ان کی لازمی خالی پن میں ان کی تخلیقی صلاحیتوں کو اجاگر کر سکتی ہے جبکہ روز مرہ زندگی ان کے بہت سے وقت اور بہت ساری محنتوں کا مطالبہ کرتی ہے یا کم از کم اس سے انہیں کئی سالوں سے ملتوی کتابیں پڑھنے کا موقع مل جاتا ہے؟
ان سعودی دانشوروں نے جنھوں نے الشرق الاوسط سے بات کی ہے ان کا خیال ہے کہ گھر میں رہنے کا ایک فائدہ یہ ہے کہ انہوں نے اپنی ان لائبریریوں کی دوبارہ ترتیب دیا ہے جو طویل عرصے سے ایک خواب کی طرح لگ رہا تھا اور اسی طرح انہیں ملتوی منصوبوں کو مکمل کرنے کا بھی موق، مل گیا۔(۔۔۔)
اتوار 19 شعبان المعظم 1441 ہجرى - 12 اپریل 2020ء شماره نمبر [15111]
ان سعودی دانشوروں نے جنھوں نے الشرق الاوسط سے بات کی ہے ان کا خیال ہے کہ گھر میں رہنے کا ایک فائدہ یہ ہے کہ انہوں نے اپنی ان لائبریریوں کی دوبارہ ترتیب دیا ہے جو طویل عرصے سے ایک خواب کی طرح لگ رہا تھا اور اسی طرح انہیں ملتوی منصوبوں کو مکمل کرنے کا بھی موق، مل گیا۔(۔۔۔)
اتوار 19 شعبان المعظم 1441 ہجرى - 12 اپریل 2020ء شماره نمبر [15111]