جرمنی "حزب اللہ" کے ساتھ "طالبان" کی طرح معاملہ کرے گا

جرمنی "حزب اللہ" کے ساتھ "طالبان" کی طرح معاملہ کرے گا

جمعہ, 8 May, 2020 - 14:45
حزب اللہ کی ایک گائڈنس ایسوسی ایشن پر چھاپے کے دوران جرمن پولیس کے ممبران کو دیکھا جا سکتا ہے (اے ایف پی)
برلن: راغدة بهنام
جرمنی کے سفارت کاروں نے کہا ہے کہ جرمنی میں لبنانی حزب اللہ کی سرگرمیوں پر لگائی جانے والی پابندیوں کا اثر لبنان کے ساتھ درمیانہ تعلقات پر نہیں ہوگا کیوںکہ یہ پارٹی وہاں کی سیاسی زندگی کا لازمی جزو ہے اور حکمراں جماعت کے ایک رکن ماریان وانڈٹ نے الشرق الاوسط کو بتایا ہے کہ برلن حزب اللہ کے ساتھ ویسے ہی معاملات طے کرے گا جیسے افغان "طالبان" تحریک کے ساتھ کرتا ہے۔
انہوں نے اس نقطۂ نظر کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم افغانستان میں (طالبان) کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں لیکن ہم اس کے عناصر کو دہشت گرد کہتے ہیں اور اگر ہم لبنانی عوام کی حمایت کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں لبنان میں (حزب اللہ) کے ساتھ بھی اسی طرح تعاون کرنا چاہئے۔
وہ "کرسچن ڈیموکریٹک یونین" پارٹی جس سے چانسلر انگیلا میرکل کا تعلق ہے اس کے نائب نے لبنانیوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس بات سے انکار کریں کہ ایک دہشت گرد جماعت حکومت کا بااثر ممبر ہے۔(۔۔)

جمعہ 15 رمضان المبارک 1441 ہجرى - 08 مئی 2020ء شماره نمبر [15137]


انتخاباتِ مدير

ملٹی میڈیا