واشنگٹن اور ماسکو کے مابین خلائی کشیدگی میں شدت

واشنگٹن اور ماسکو کے مابین خلائی کشیدگی میں شدت

پیر, 1 June, 2020 - 09:30
گزشتہ روز خلائی اسٹیشن کے قریب پہنچتے ہی ناسا کے ذریعہ دو خلابازوں باب پنکن اور ڈگ ہرلی کے ذریعہ نشر کردہ ایک تصویر کو دیکھا جا سکتا ہے (اے پی اے)
گزشتہ روز بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر اسپیس ایکس کے خلائی جہاز میں شامل ہونے سے خلاء میں امریکی روسی کشیدگي ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جس کی وجہ سے واشنگٹن اور ماسکو کے مابین دو طرفہ بات چیت ہوئی ہے اور اسی کی وجہ سے یہ تاریخی خلائی مشن ابھر کر سامنے آیا ہے اور بین الاقوامی اسٹیشن کے دوروں پر اس کی اجارہ داری کا خاتمہ ہوا ہے جس پر اب تک روسی خلائی ایجنسی (روسکوسموس) کا قبضہ تھا۔

اسپیس ایکس نجی میزائل کمپنی نے گزشتہ روز کرو ڈریگن کا آغاز کیا ہے جس میں دو خلاباز موجود ہیں۔


میزائل چھوڑے جانے کے منظر کا مشاہدہ کرنے والے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ نے خلا میں عالمی رہنما کی حیثیت سے دوبارہ اپنا مقام حاصل کرلیا ہے اور امریکی خلاباز جلد ہی مریخ پر اتریں گے اور واشنگٹن جلد ہی انسانی تاریخ کا سب سے بڑا تصوراتی ہتھیار حاصل کرلے گا۔(۔۔۔)


پیر 09 شوال المکرم 1441 ہجرى - 01 جون 2020ء شماره نمبر [15161]


انتخاباتِ مدير

ملٹی میڈیا