الکاظمی کی حکومت اور ایرانی دھڑوں کے مابین فیلڈ ٹیسٹ

الکاظمی کی حکومت اور ایرانی دھڑوں کے مابین فیلڈ ٹیسٹ

ہفتہ, 27 June, 2020 - 13:00
گزشتہ روز بغداد میں ایرانی "قدس فورس" کے کمانڈر قاسم سلیمانی اور "پاپولر موبلائزیشن" کمیٹی کے سابق نائب سربراہ ابو مہدی المہندس کی تصاویر جمع کرنے والے ایک پوسٹر کے سامنے سے گذرتی ہوئی ایک سیکیورٹی گاڑی کو دیکھا جا سکتا ہے (اے پی پی)
بغداد میں آخری رات سے پہلے نسبتا نئے وزیر اعظم مصطفی الکاظمی کی حکومت اور ایران نواز دھڑوں کے مابین پہلا فیلڈ ٹیسٹ دیکھا گیا ہے کیونکہ انسداد دہشت گردی فورسز نے عراقی دار الحکومت کے جنوب میں واقع ایک ہیڈ کوارٹر پر چھاپہ مارا ہے  جس میں کٹیوشا نامی ایسے راکٹ تیار کئے جاتے تھے جن میں وہ راکٹ بھی ہیں جو امریکی فورسز اور گرین زون پر داعے گئے تھے۔

اگرچہ عراقی مشترکہ آپریشن کمانڈ کے بیان میں ہدف شدہ دھڑے کے نام کا حوالہ نہیں دیا گیا ہے لیکن حکومت کے قریبی سکیورٹی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ یہ حزب اللہ کے بریگیڈ ہیں جسے ایران سب سے زیادہ مالی تعاون فراہم کرتا ہے اور لبنانی حزب اللہ سے اس کا قریبی تعلق ہے اور اس کی بنیاد 2007 میں کمیشن کے نائب سربراہ ابو مہدی المہندیس نے رکھی ہے جو اس سال کے اوائل میں بغداد ہوائی اڈے کے قریب امریکی فضائی حملے میں سابق ایرانی قدس فورس کے کمانڈر قاسم سلیمانی کے ساتھ مارے کئے ہیں۔(۔۔۔)
 


ہفتہ 06 ذی القعدہ 1441 ہجرى - 27 جون 2020ء شماره نمبر [15187]


انتخاباتِ مدير

ملٹی میڈیا