اقوام متحدہ: بھوک کے بحران کی وجہ سے شام کی آدھی آبادی تکلیف وپریشانی سے دوچار

اقوام متحدہ: بھوک کے بحران کی وجہ سے شام کی آدھی آبادی تکلیف وپریشانی سے دوچار

ہفتہ, 27 June, 2020 - 12:15
ترکی کی سرحد کے قریب کیمپ میں شامی پناہ گزینوں کو دیکھا جا سکتا ہے (اے پی)
ورلڈ فوڈ پروگرام نے کل اعلان کیا ہے کہ شام کی تقریبا نصف آبادی ملک کو درپیش بھوک کے بحران سے متاثر ہوئی ہے اور اس تنظیم نے صورتحال کو غیر معمولی قرار دیا ہے۔

اس پروگرام کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ تقریبا 17 ملین شامی باشندوں میں سے 3.9 ملین افراد غذائی تحفظ سے دوچار ہیں اور گزشتہ چھ ماہ کے مقابلے میں 4.‏1  ملین کا اضافہ ہوا ہے اور اس بیان میں مزید یہ بھی کہا گیا ہے کہ شامی باشندوں کو بے مثال بھوک کے بحران کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے کیوںکہ نو سالوں کے تنازعہ کے تسلسل کے ساتھ بنیادی غذائی اجناس کی قیمتیں غیر معمولی سطح پر پہنچ گئی ہیں اور اس میں اس بات کی وضاحت بھی کی گئی ہے کہ کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتوں میں ایک سال سے بھی کم عرصے میں 200 فیصد سے زیادہ کا اضافہ ہوا ہے۔(۔۔۔)


ہفتہ 06 ذی القعدہ 1441 ہجرى - 27 جون 2020ء شماره نمبر [15187]


انتخاباتِ مدير

ملٹی میڈیا