تہران کو روکنے اور اسلحے کی پابندی میں توسیع کے لئے سعودی عرب اور امریکہ کے مابین ایک معاہدہ

تہران کو روکنے اور اسلحے کی پابندی میں توسیع کے لئے سعودی عرب اور امریکہ کے مابین ایک معاہدہ

منگل, 30 June, 2020 - 14:00
سعودی وزیر مملکت برائے امور خارجہ عادل الجبیر اور ایران کے لئے خصوصی امریکی ایلچی برائن ہوک کو حوثیوں کے استعمال کے لئے ایرانی ہتھیار کے ساتھ ساتھ یمن میں قانون کی حمایت کرنے والے اتحاد کے ترجمان کرنل ترکی المالکی کی طرف سے ریاض میں گزشتہ روز ان ہتھیاروں کو پیش کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے (رائٹرز)
سعودی عرب اور امریکہ نے ایران کو روکنے کے لئے کوششیں جاری رکھنے اور اس پر پابندی عائد کرنے کے لئے بین الاقوامی قرارداد میں توسیع کرنے کے سلسلہ میں اتفاق کیا ہے۔

ایران کے لئے امریکی خصوصی ایلچی برائن ہوک نے گزشتہ روز پیر کے دن اور ایک روز قبل اتوار کے دن سعودی عرب میں نائب وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان، وزیر برائے امور خارجہ شہزادہ فیصل ابن فرحان، وزیر مملکت برائے امور خارجہ عادل الجبیر اور متعدد عہدیداروں سے ملاقات کی ہے اور دونوں فریقوں نے متعدد علاقائی ممالک میں ایران کے ذریعہ جرائم پیشہ افراد کی کارروائیوں سے نمٹنے کی اہمیت اور ان کی طرف سے دہشت گرد تنظیموں کو پیش کی جانے والی حمایت پر توجہ مرکوز کی ہے۔


الجبیر اور ہوک نے ایرانی میزائلوں کے نمونے دیکھے جانے کے بعد جو ایرانی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا کے ذریعہ سعودی عرب کو نشانہ بنانے کے لئے استعمال کیے گئے تھے انہوں نے ایک پریس کانفرنس کی ہے جس کے دوران ہوک نے زور دے کر کہا کہ پابندی کے فیصلے کی میعاد ختم ہونے کی صورت میں ایران کسی بھی پابندی کے بغیر اسلحہ فروخت کرے گا اور خطے میں میزائل نظام اور ان کے ہتھیاروں کو ان برآمد کی جا سکے گی۔(۔۔۔)


منگل 09 ذی القعدہ 1441 ہجرى - 30 جون 2020ء شماره نمبر [15190]


انتخاباتِ مدير

ملٹی میڈیا