عراق میں قتل کرنے والی مشین کے خلاف غصہ اور مذمت کی لہر

عراق میں قتل کرنے والی مشین کے خلاف غصہ اور مذمت کی لہر

بدھ, 8 July, 2020 - 10:00
ہشام الہاشمی کے بھائی کو گزشتہ روز بغداد میں اپنے آخری رسومات کے دوران روتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے (رائٹرز)
عراق میں کل قتل کرنے والی اس مشین کے خلاف بڑے پیمانے پر غم وغصہ کی لہر کا مشاہدہ کیا گیا ہے جس کے ذریعہ بغداد کے مشرق میں محقق اور سیکیورٹی کے ماہر ہشام الہاشمی کو ان کے مکان کے سامنے قتل کر دیا گیا ہے جبکہ وزیر اعظم مصطفیٰ الکاظمی نے ان کا قتل کرنے والوں سے قصاص لینے اور انہیں انصاف کے کٹہرے میں لانے کے عزم کا اظہار کیا ہے اور اس سلسلہ میں دنیا بھر کے ممالک، شخصیات اور مراکز کی جانب سے مذمت کی ایک لہر جاری ہو گئی ہے۔

دو موٹرسائیکلوں پر سوار مسلح افراد نے پیر کی شام الہاشمی کے اپنے گھر پہنچتے ہی انہیں قتل کر دیا اور وہ کسی کے ذریعہ روکے جانے سے قبل ہی وہاں سے فرار ہو گئے اور اس قتل کے واقعہ کی وجہ سے عراقیوں کے نزدیک مشہور ریاست کے دائرۂ کار سے باہر کام کرنے والے مسلح گروہوں کی فائل کھل گئی ہے اور اس میں اس بات کی طرف بھی اشارہ ہے کہ ان مسلح جماعتوں نے ملک کے دائرۂ کار سے باہر کام کرنا شروع کر دیا ہے اور ان پر قتل وغارت گری کے ایک طویل سلسلے کا بھی الزام عائد کیا گیا ہے اور انہوں نے اس عوامی تحریک میں سرگرم کارکنوں کو بھی نشانہ بنایا ہے جو عراق میں گزشتہ اکتوبر سے جاری ہے۔(۔۔۔)


بدھ 17 ذی القعدہ 1441 ہجرى - 08 جولائی 2020ء شماره نمبر [15198]


انتخاباتِ مدير

ملٹی میڈیا