حوثیوں کی کشیدگی کے بعد سعودی عرب کے ساتھ وسیع پیمانہ پر اظہار یکجہتی

حوثیوں کی کشیدگی کے بعد سعودی عرب کے ساتھ وسیع پیمانہ پر اظہار یکجہتی

منگل, 14 July, 2020 - 10:30
کرنل ترکی المالکی کو رواں ماہ کے اوائل میں ایک پریس کانفرنس کے دوران حوثی میزائلوں کی باقیات دکھاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے (رائٹرز)
خلیجی اور عرب ریاستوں اور بین الاقوامی اور اسلامی تنظیموں نے یمن کے حوثیوں کی طرف سے ڈرون جہاز اور بیلسٹک میزائلوں کے ذریعے سعودی عرب کے عام شہریوں پر کی جانے والے حملوں کی مذمت کی ہے لیکن یہ بھی یاد رہے کہ قانون کی حمایت کرنے والے اتحادی فوجوں نے ان میزائلوں کو تباہ وبرباد کر دیا ہے۔

ایران سے منسلک حوثی ملیشیاؤں کے حملوں میں 4 بیلسٹک میزائل اور 7 ڈرون جہاز استعمال کئے گئے ہیں لیکن ان سب کو مکمل طور پر روک کر تباہ وبرباد کردیا گیا ہے اور یہ سب ایسے وقت میں ہوا ہے جب ایران کو اپنے شہروں میں پر حساس تنصیبات کو نشانہ بنانے والے پراسرار بم دھماکوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔


مبصرین کا خیال ہے کہ یہ کوئي عجیب بات نہیں ہوگی کہ ایران خطے میں اپنے اوزاروں کے ذریعہ ایک خونی کشیدگی کی طرف گامزن ہوگا اور خاص طور پر نومبر کے ماہ میں ہونے والے امریکی انتخابات سے پہلے ایسا کرنا ہوگا تاکہ وہ بین الاقوامی برادری پر دباؤ ڈال سکے اور تہران حکومت کی بے عزتی کو ختم کر سکے جو اپنے بدترین ایام میں ہے۔(۔۔۔)


منگل  23 ذی القعدہ 1441 ہجرى - 14 جولائی 2020ء شماره نمبر [15204]


انتخاباتِ مدير

ملٹی میڈیا