آج بیروت میں ہیں لودریان اور کسی حیرت کی توقع نہیں

فرانسیسی وزیر خارجہ ژاں یوس لودریان کو دیکھا جا سکتا ہے
فرانسیسی وزیر خارجہ ژاں یوس لودریان کو دیکھا جا سکتا ہے
TT

آج بیروت میں ہیں لودریان اور کسی حیرت کی توقع نہیں

فرانسیسی وزیر خارجہ ژاں یوس لودریان کو دیکھا جا سکتا ہے
فرانسیسی وزیر خارجہ ژاں یوس لودریان کو دیکھا جا سکتا ہے
فرانسیسی وزیر خارجہ ژاں یوس لودريان نے آج لبنان کے پہلے سرکاری دورہ پر لبنانیوں کی خواہش کے مطابق کوئی تعجب خیز بات نہیں کی ہے اور پیرس اس بات کا منصوبہ بنا رہا تھا کہ یہ دورہ لبنان کی حکومت کے ذریعہ ہونے والے اصلاحات کے آغاز کے ساتھ ہو جس کی مدد کرنے کے سلسلہ میں بین الاقوامی برادری منتظر تھی۔

لیکن چونکہ معاملات اس طرح نہیں ہوئے؛ لہذا لودریان کی دو روزہ گفتگو لبنانی عہدیداروں کو براہ راست پیغامات پہنچانے کا موقع فراہم کرے گی کہ پیرس تیز اور ٹھوس اصلاحات کی عدم موجودگی میں آج لبنان کی مدد کرنے سے قاصر ہے۔

فرانسیسی سرکاری ذرائع سے یہ سمجھا گیا ہے کہ لودریان دو سال قبل پیرس کے زیر اہتمام سیڈر کانفرنس کے بعد سے درکار اصلاحات کی تفصیلات کے سلسلہ میں وزیر اعظم اور ایوان نمائندگان کے ساتھ داخل ہوں گے۔(۔۔۔)

بدھ 01 ذی الحجہ 1441 ہجرى - 22 جولائی 2020ء شماره نمبر [15212]



دی ہیگ میں "نسل کشی" کے الزام کے بارے میں اسرائیلی تشویش

بین الاقوامی عدالت انصاف کے پینل نے کل دی ہیگ میں جنوبی افریقہ کی طرف سے اسرائیل کے خلاف دائر کردہ "نسل کشی" کے مقدمے کی سماعت کا آغاز کیا (ای پی اے)
بین الاقوامی عدالت انصاف کے پینل نے کل دی ہیگ میں جنوبی افریقہ کی طرف سے اسرائیل کے خلاف دائر کردہ "نسل کشی" کے مقدمے کی سماعت کا آغاز کیا (ای پی اے)
TT

دی ہیگ میں "نسل کشی" کے الزام کے بارے میں اسرائیلی تشویش

بین الاقوامی عدالت انصاف کے پینل نے کل دی ہیگ میں جنوبی افریقہ کی طرف سے اسرائیل کے خلاف دائر کردہ "نسل کشی" کے مقدمے کی سماعت کا آغاز کیا (ای پی اے)
بین الاقوامی عدالت انصاف کے پینل نے کل دی ہیگ میں جنوبی افریقہ کی طرف سے اسرائیل کے خلاف دائر کردہ "نسل کشی" کے مقدمے کی سماعت کا آغاز کیا (ای پی اے)

جنوبی افریقہ کی طرف سے دی ہیگ میں بین الاقوامی عدالت انصاف کے سامنے اسرائیل کے خلاف دائر کیے گئے مقدمے کے نتائج کے بارے میں اسرائیلی حکومت میں تشویش پائی جاتی ہے۔ اقوام متحدہ کے اعلیٰ ترین عدالتی ادارے کی نمائندگی کرنے والی اس عدالت، جس کا صدر دفتر دی ہیگ میں ہے، نے کل جمعرات کے روز سے سماعت کا آغاز کیا جو دو دن تک جاری رہے گی۔

پریٹوریا نے عبرانی ریاست پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے غزہ کی پٹی میں "نسل کشی کی روک تھام" معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے اور جو اسرائیل غزہ کی پٹی میں کر رہا ہے اس کا جواز 7 اکتوبر 2023 کو تحریک "حماس" کی طرف سے شروع کیے گئے حملے ہرگز نہیں ہو سکتے۔

جنوبی افریقہ نے عدالت میں دائر 84 صفحات پر مشتمل شکایت میں ججوں پر زور دیا ہے کہ وہ اسرائیل کو غزہ کی پٹی میں "فوری طور پر اپنی فوجی کاروائیاں بند کرنے" کا حکم دیں۔ کیونکہ اس کا یہ خیال ہے کہ اسرائیل نے "غزہ میں فلسطینی عوام کے خلاف نسل کشی کی کاروائیاں کی ہیں، وہ کر رہا ہے اور آئندہ بھی جاری رکھ سکتا ہے۔" عدالت میں جنوبی افریقہ کے وفد کی وکیل عدیلہ ہاشم نے کہا کہ "عدالت کے پاس پہلے ہی سے پچھلے 13 ہفتوں کے دوران جمع شدہ شواہد موجود ہیں جو بلاشبہ اس کے طرز عمل اور ارادوں کو ظاہر کرتے ہوئے نسل کشی کے معقول الزام کو جواز بناتے ہیں۔" (...)

جمعہ-30 جمادى الآخر 1445ہجری، 12 جنوری 2024، شمارہ نمبر[16481]