السراج نے "بحیرہ روم" کے تناؤ کو نظرانداز کیا اور اردوغان کے ساتھ اپنے معاہدہ سے وابستہ رہے

السراج نے "بحیرہ روم" کے تناؤ کو نظرانداز کیا اور اردوغان کے ساتھ اپنے معاہدہ سے وابستہ رہے

پیر, 27 July, 2020 - 16:45
لیوی کے ذریعہ ٹوئٹر پر اپنے متنازعہ دورہ ترہونا کے بارے میں ایک تصویر نشر کی ہے
بحیرۂ روم میں ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان کے ساتھ ہونے والے متنازعہ معاہدوں کی وجہ سے پیدا ہونے والے تناؤ کے باوجود لیبیا کی "الوفاق" حکومت کے سربراہ فائز السراج نے ترکی کے ساتھ تعلقات استوار کرنے پر اصرار کیا ہے اور وہاں کے صدر نے کل ہی عوامی سطح پر لیبیا میں اپنی انٹیلیجنس سروس میں شمولیت کا اعتراف کیا ہے۔

السراج نے کہا کہ پرسو شام استنبول میں اردوغان کے ساتھ ہونے والی ملاقات کے دوران انہوں نے سیکیورٹی تعاون اور بحیرۂ روم میں سمندری اہلیت کے شعبوں کی وضاحت کے بارے میں گزشتہ نومبر میں ان کے ساتھ طے پانے والے دو متنازعہ معاہدوں پر عمل درآمد کے بارے میں بغیر کسی تفصیل کے پیروی کی گئی ہے۔


اسی سلسلہ میں اردوغان نے دعوی کیا ہے کہ ترکی کی انٹلیجنس سروس کے ذریعہ فراہم کردہ انفارمیشن سپورٹ کی حیثیت سے جو بیان کیا گیا ہے اس نے لیبیا میں کھیل کے قواعد کو تبدیل کردیا ہے اور لیبیا کی نیشنل آرمی کے کمانڈر انچیف فیلڈ مارشل خلیفہ حفٹر کی پیشرفت کو روکنے میں کردار ادا کیا ہے جسے انہوں نے بغاوت کے طور پر بیان کیا ہے۔(۔۔۔)


پیر 06 ذی الحجہ 1441 ہجرى - 27 جولائی 2020ء شماره نمبر [15217]


انتخاباتِ مدير

ملٹی میڈیا