لیبیا میں افریقی ادلب کے خدشات

لیبیا میں افریقی ادلب کے خدشات

پیر, 3 August, 2020 - 11:30
"بوکو حرام" تنظیم سے الگ ہونے والی ایک جماعت کی فوجی گاڑی کو دیکھا جا سکتا ہے
شام میں موجود اپنے وفادار عسکریت پسند گروہوں کے لشکروں اور جنگجوؤں کی مسلسل نقل مکانی سے لیبیا کی سرزمین پر افریقی ادلب بنانے کے بارے میں بہت سارے اہل لیبیا ، بنیاد پرست ماہرین اور تحقیقی مراکز کے لئے خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔

اس شام جب انسانی حقوق کی رصدگاہ نے انکشاف کیا کہ 27 ہزار جنگجو ترکی کے راستے لیبیا منتقل ہوئے ہیں جن میں 10 ہزار وہ متشدد افراد شامل ہیں جو لیبیا میں فائز السراج کی سربراہی میں طرابلس کے اندر وفاق حکومت کی جانب سے جنگ کریں گے اسی شام سلویم فاؤنڈیشن برائے مطالعات وتحقیق کے سربراہ جمال شلوف نے الشرق الاوسط کو دئے گئے ایک بیان میں کہا کہ ترکی نے لیبیا کو دہشت گردوں کی کمر کی حیثیت سے تبدیل کردیا ہے اور متنبہ کیا ہے کہ اس کی وجہ سے لیبیا ان تنظیموں کے بڑے گروپوں کے وجود میں آنے کا ایک پلیٹ فارم بن سکتا ہے۔(۔۔۔)


پیر 13 ذی الحجہ 1441 ہجرى - 03 اگست 2020ء شماره نمبر [15224]


انتخاباتِ مدير

ملٹی میڈیا