بیروت کا دورناک حادثہ

بیروت کا دورناک حادثہ

بدھ, 5 August, 2020 - 11:15
گزشتہ روز بیروت بندرگاہ کے دھماکے کی وجہ سے بڑے پیمانے پر ہونے والے نقصان کے منظر کو دیکھا جا سکتا ہے (اے ایف پی)
گزشتہ روز لبنانی دارالحکومت بیروت کی بندرگاہ میں ایک پراسرار بم دھماکہ ہوا ہے جس کی بازگشت بہت دور تک سنی گئی ہے حتی کہ قبرص اور اس کے ہمسایہ ممالک میں بھی اس کی بازگشت سنی گئی ہے اور اس کے نتیجے میں درجنوں افراد ہلاک اور ہزاروں زخمی ہوئے ہیں اور اسی کے ساتھ بندرگاہ اور اس کے آس پاس اور دارالحکومت کے اندر پانچ کلومیٹر کی دوری تک بڑے پیمانے پر نقصان ہوا ہے یہاں تک کہ اسپتال بھی متاثرین کو اپنے لینے سے قاصر ہو گئے اور شام کو  ہائی ڈیفنس کونسل نے بیروت کو ایک آفت زدہ شہر اعلان کر دیا اور کابینہ کو دو ہفتوں کی ایمرجنسی لگانے اور فوج کو سکیورٹی سنبھالنے کی سفارش کی ہے۔

ابتدائی معلومات کے اشارے کے مطابق یہ دھماکہ بندرگاہ کے "وارڈ نمبر 12" کے پھٹنے سے ہوا ہے اور اس وارڈ میں اندر پٹاخے پھٹنے کے نتیجے میں آگ بھڑک اٹھی ہے اور ڈائریکٹر جنرل پبلک سکیورٹی میجر جنرل عباس ابراہیم نے دھماکے کے مقام کے معائنہ کے دوران اس قیاس آرائی پر سوال اٹھاتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ آتش بازی کے سلسلہ میں گفتگو مضحکہ خیز ہیں اور انہوں نے تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے تاکہ حقیقت واضح ہو سکے اور یہ بھی کہا ہے کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ دھماکہ برسوں سے ضبط کیے گئے اعلی دھماکہ خیز مواد کے ایک اسٹور میں ہوا ہے۔


وزیر داخلہ محمد فہمی نے وزیر اعظم حسان دیاب کے ہمراہ بندرگاہ پر اپنے معائنے کے دوران کہا کہ ہمیں دھماکے کی وجوہات کے بارے میں تحقیقات کا انتظار کرنا ہوگا لیکن ابتدائی اطلاعات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ دھماکہ برسوں پہلے برآمد ہونے والے دھماکہ خیز مواد سے ہوا ہے جو وارڈ نمبر 12 میں پھٹا ہے اور پریس سے متعلق معلومات میں کہا گیا ہے کہ ریاستی سیکیورٹی ایجنسی نے 5 ماہ قبل درخواست کی تھی کہ بیروت بندرگاہ پر بلاک نمبر 12 میں پائے جانے والے دھماکہ خیز مواد کی تحقیقات کا آغاز کیا جائے۔(۔۔۔)


بدھ 15 ذی الحجہ 1441 ہجرى - 05 اگست 2020ء شماره نمبر [15226]


انتخاباتِ مدير

ملٹی میڈیا