مودی نے ہندو مندر تعمیر کرکے فرقہ وارانہ کشیدگی کو مستحکم کیا ہے

مودی نے ہندو مندر تعمیر کرکے فرقہ وارانہ کشیدگی کو مستحکم کیا ہے

یہ منصوبہ کشمیر میں خود حکمرانی کے خاتمہ کی سالگرہ کے موقع پر شروع کیا گیا ہے
جمعرات, 6 August, 2020 - 14:15
ہندوستان کے وزیر اعظم نریندر مودی نے گزشتہ روز شمالی شہر ایودھیا میں ایک متنازعہ مقام پر ہندو مندر بنانے کی بنیاد رکھ کر فرقہ وارانہ کشیدگی کو بڑھاوا دیا ہے اور یہ معاملہ مسلمانوں اور ہندوؤں کے مابین تاریخی تنازعہ کے طور پر دیکھا گیا ہے اور کل کا یہ اقدام مندر کی تعمیر کے حق میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد آیا ہے جسے مودی نے ہندوؤں کے لئے ایک نئے سنہری باب کے طور پر سمجھا ہے اور اس اقدام کے ساتھ ساتھ ہندوستانی مسلم اکثریتی صوبہ کشمیر کے لئے خودمختاری کے خاتمے کی پہلی برسی کے موقع پر کیا گیا ہے اور 2014 میں اقتدار سنبھالنے سے قبل انتخابی مہم کے دوران مودی کا یا آخری وعدہ تھا۔

ایک ہندو مندر کی تعمیر اور کشمیر کی بدلتی حیثیت کے ساتھ مودی نے ہندوستان میں ایک ہندوانہ ملک کے لئے جاری تعمیر کے بارے میں دو مضبوط اشارے دیئے ہیں اور یہ اقدام 1947 میں آزادی کے بعد قائم ہونے والی کثیر فرقہ وارانہ قوم سے آگے بڑھ کر کیا گیا ہے اور یہ نیا مندر ہندو انتہا پسندوں کے ذریعہ تباہ شدہ مسجد کے کھنڈرات پر تعمیر کیا جائے گا اور اس کی دلیل یہ دی گئی ہے کہ یہ سرزمین ان کے لئے ایک مقدس مقام ہے اور مسلمان سلطان بابر نے سولہویں صدی میں بابری مسجد ایک ہندو مندر منہدم کرکے تعمیر کیا تھا۔(۔۔۔)



جمعرات 16 ذی الحجہ 1441 ہجرى - 06 اگست 2020ء شماره نمبر [15227]


انتخاباتِ مدير

ملٹی میڈیا