لبنانیوں کے غصے نے "ملبے کی حکومت" کو گرا دیا

لبنانیوں کے غصے نے "ملبے کی حکومت" کو گرا دیا

منگل, 11 August, 2020 - 07:00
گزشتہ روز شہر بیروت میں لبنانی نوجوانوں اور سیکیورٹی فورسز کے مابین تصادم کے منظر کے ساتھ ساتھ فریم میں حسان دیاب کو ٹیلیویژن تقریر میں اپنی حکومت کے استعفی کا اعلان کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے (اے ایف پی)
کل پیر کو مستعفی ہونے والی لبنانی حکومت ملبے کی حکومت کہلانے کی مستحق ہے کیونکہ اس کو معاشی، اقتصادی اور سیاسی بحرانوں کے ڈھیر پر حسان دیاب کی سربراہی میں کئی ماہ قبل شروع کیا گیا تھا اور یہ حکومت کسی بھی مسئلہ کو حل کرنے میں ایک ناکامی کے بعد دوسرے ناکامی سے دوچار ہوتی رہی ہے اور ان لبنانیوں کے غیظ وغضب کے ساتھ اس حکومت کا خاتمہ ہو گیا جو بیروت کی بندرگاہ اور اس کی عمارتوں کے ملبے کے ذریعہ واپس سڑک پر آگئے ہیں اور انہوں نے اتنے زور سے اس دھماکے کی مذمت کی کہ ان کی نیند اڑ گئی اور ان کا خاتمہ ہو گیا۔

دیاب نے اپنا استعفیٰ دیتے ہوئے بیان میں کہا کہ بدعنوانی کا نظام ملک سے بڑا ہے اور ہم اس سے چھٹکارا نہیں پا سکتے اور بدعنوانی کی ایک مثال بیروت کا دھماکہ ہے۔


کل حکومت کے پاس اپنے صدر کے فیصلے یا وزراء میں سے ایک تہائی اکثریت کے استعفیٰ دینے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا کیونکہ اگلے جمعرات کو پارلیمنٹ میں اس کا خاتمہ ہونا ہی ہے اور خاص طور پر پارلیمنٹ کے اسپیکر نبیہ بری نے اجلاس کی دوسری تاریخ کے لئے جو رابطے کئے ہیں وہ ان کو راضی کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔(۔۔۔)


 منگل 21 ذی الحجہ 1441 ہجرى - 11 اگست 2020ء شماره نمبر [15232]


انتخاباتِ مدير

ملٹی میڈیا