بیروت مظاہرے میں صدر جمہوریہ اور پارلیمنٹ کے صدو کو نشانہ بنایا گیا

بیروت مظاہرے میں صدر جمہوریہ اور پارلیمنٹ کے صدو کو نشانہ بنایا گیا

بدھ, 12 August, 2020 - 06:30
گزشتہ روز بیروت میں سیاسی اصلاحات کا مطالبہ کرنے والی ہجوم کو دیکھا جا سکتا ہے (ای پی اے)
لبنانی باشندوں کی ایک بڑی تعداد نے بندرگاہ دھماکے کو ایک ہفتہ ہونے کے موقع پر دارالحکومت بیروت میں شمع اور آنسو مارچ میں شرکت کی ہے اور ہلاک ہونے والے 171 افراد کے نام کو مساجد کے آذان اور چرچ کی گھنٹیوں کی آواز کے انداز میں بہند انداز سے لئے اور نعرے بازیوں میں حکومت کی غفلت کی مذمت کی گئی اور صدر جمہوریہ مائکل عون اور پارلیمنٹ کے صدر نبیہ بری کے استعفی کا مطالبہ بھی کیا گیا اور یہ مارچ شام کو پارلیمنٹ کی عمارت کے آس پاس سیکیورٹی فورسز کے ساتھ محاذ آرائی کے ساتھ ہی اختتام پذیر ہو گیا۔

خبر رساں ادارے روئٹرز نے گزشتہ روز بتایا ہے کہ اسے ایسے دستاویزات ملے ہیں جن سے اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ سیکیورٹی عہدیداروں نے صدر عون اور مستعفی وزیر اعظم حسان دیاب کو ایسے خطرہ کے آنے سے آگاہ کیا ہے جس سے دار الحکومت کی تباہی ہو سکتی ہے کیونکہ ابھی بندرگاہ میں امونیم نائٹریٹ کی کھیپ پھٹ چکی ہے۔


اسی سلسلہ میں ایک ممتاز پارلیمانی ذمہ دار نے الشرق الاوسط سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا ہے کہ عون نئے وزیر اعظم کا نام لینے کے لئے پارلیمانی مشاورت کا انتظار نہیں کرسکتے ہیں۔(۔۔۔)


بدھ 22 ذی الحجہ 1441 ہجرى - 12 اگست 2020ء شماره نمبر [15233]


انتخاباتِ مدير

ملٹی میڈیا