طرابلس کے حکمران آپس میں برسرپیکار اور احتجاج جنوب تک پھیلا

طرابلس کے حکمران آپس میں برسرپیکار اور احتجاج جنوب تک پھیلا

اتوار, 30 August, 2020 - 10:45
باشاغا کو برخاست کرنے کے بعد گزشتہ روز مصراتة میں طرابلس حکومت کے خلاف مظاہرے کرتے ہوئے لوگوں کو دیکھا جا سکتا ہے (رائٹرز)
لیبیا کے دارالحکومت طرابلس پر حملہ کرنے والے حالیہ نوجوانوں کے احتجاج نے طرابلس میں جنگی شراکت داروں کے مابین تعلقات کو کشیدہ کر دیا ہے جس کی وجہ سے صدارتی کونسل کے صدر فائز السراج اور ان کے وزیر فتحي باشاغا دونوں اپنی سیکیورٹی اور فوجی دستوں کے پیچھے پھنس گئے ہیں۔

السراج کے خلاف نکلے ہوئے مظاہرین کی حمایت اور مدد کرنے کے الزام کے پس منظر میں السراج نے باشاغا کو احتیاطی طور پر کام سے معطل کر دیا ہے اور انہیں انتظامی تحقیقات کے لئے بھیج دیا ہے اور انہوں نے ان کی جگہ تمام فرائض کے لئے اپنے ایک نائب کو متعین کیا ہے لہذا ان سب اقدامات کے بعد طرابلس تناؤ کا شکار ہو گیا ہے اور یہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مظاہرے میں وسعت آئی ہے اور اس کا دشمن ملک کے جنوب میں واقع "غریب انقلاب کی تحریک" کے ذریعہ بدعنوانی اور رہائشی حالات کے خراب ہونے کی مذمت کرنے کے لئے سبھا شہر پہنچا ہے۔(۔۔۔)


اتوار 11 محرم الحرام 1442 ہجرى - 30 اگست 2020ء شماره نمبر [15251]


انتخاباتِ مدير

ملٹی میڈیا