عراق "چھوٹے ہوئے ہتھیاروں" کا مقابلہ کرنے کے لئے متحرک

عراق "چھوٹے ہوئے ہتھیاروں" کا مقابلہ کرنے کے لئے متحرک

جمعہ, 4 September, 2020 - 10:00
مصطفی الکاظمی کو گزشتہ روز بغداد میں فوجی رہنماؤں کے ساتھ ملاقات کے دوران دیکھا جا سکتا ہے (عراقی وزیر اعظم کا دفتر)
کل عراق میں "چھوٹے ہوئے ہتھیاروں" کا مقابلہ کرنے کے لئے ایک قسم کی حرکت اس وقت دیکھی گئی ہے جب ایک نیا میزائل بغداد کے ایک علاقے پر گر پڑا  اور یہ اس گروپ کی طرف سے بھیجے جانے والے "کاتیوشا پیغامات" کے نام سے مشہور ہوا ہے جس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ ایران سے منسلک ہے اور اس ملک میں امریکی موجودگی کے خلاف ہے۔

گزشتہ روز عراقی وزیر اعظم مصطفی الکاظمی نے ملک کے وقار کو قائم کرنے پر زور دیا ہے۔


وزیر اعظم کے دفتر نے بتایا ہے کہ الکاظمی نے بغداد میں جوائنٹ آپریشنز کمانڈ کے ہیڈ کوارٹر کا دورہ کیا ہے جہاں ان کا فوج کے چیف آف اسٹاف، جوائنٹ آپریشنز کے ڈپٹی کمانڈر اور انسداد دہشت گردی سروس کے سربراہ کے ذریعہ استقبال کیا گیا ہے اور انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ان کی حکومت کو غیر منظم ہتھیاروں اور قبائل کے تنازعات کی ایک وراثت میراث میں ملی ہے جو معاشرے کے لئے حقیقی خطرہ اور اس کے ممبروں کو دھمکیاں دینے کے ساتھ ساتھ ملک میں تعمیر نو اور ترقی کی کوششوں میں رکاوٹ ہے۔(۔۔۔)


جمعہ 16 محرم الحرام 1442 ہجرى - 04 ستمبر 2020ء شماره نمبر [15256]


انتخاباتِ مدير

ملٹی میڈیا