عباس کی جانشینی کے سلسلہ میں امریکی بیانات پر فلسطینیوں میں غصہ کی لہر

عباس کی جانشینی کے سلسلہ میں امریکی بیانات پر فلسطینیوں میں غصہ کی لہر

جمعہ, 18 September, 2020 - 05:45
فلسطین کے صدر محمود عباس کو رواں ماہ کے شروع میں رام اللہ میں خطاب کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے (اے ایف پی)
فلسطینی ایوان صدر نے اسرائیل میں امریکی سفیر ڈیوڈ فریڈمین کے اخبار "اسرائیل ٹوڈے" کے بیانات پر اپنی مذمت اور غصے کا اظہار کیا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ امریکی انتظامیہ شاید "فلسطین" کی فتح تحریک سے برخاست ہونے والے محمد دحلان کے بارے میں فلسطینیوں کے آئندہ رہنما کی حیثیت سے سوچ سکتی ہے۔

جبکہ فلسطینی عہدیداروں نے صدر محمود عباس کو نقصان پہنچانے کے سلسلہ میں آگاہ کیا ہے اور صدارتی ترجمان نبیل ابو ردينة نے کہا ہے کہ صدر عباس اور قیادت کو بلیک میل کرنے کی دھمکیوں، مستقل دباؤ اور امریکی کوششوں کی پالیسی ناکام ہوگی اور انہوں نے مزید کہا ہے کہ جامع قومی اصولوں سے کچھ کا انحرافات کرنے کے پیش نظر صدر عباس کی قیادت کے پیچھے کھڑے رہنا ہی اس طرح کی بکواس کا بہترین ردعمل ہے۔


فریڈمین سے فلسطینیوں کے غم وغصے میں خود دحلان بھی شامل ہیں جنہوں ے خود کو بیانات سے دور رکھا ہے لیکن "قانونی حیثیت کی تجدید کی ضرورت پر زور بھی دیا ہے اور دحلان نے اپنے فیس بک پیج پر کہا ہے کہ جو اپنے لوگوں کے ذریعہ منتخب نہیں ہوتا ہے وہ قومی آزادی کی رہنمائی اور کامیابی حاصل نہیں کر سکے گا اور انہوں نے اس یقین کا بھی اظہار کیا ہے کہ فلسطین کو تمام رہنماؤں اور اداروں کے جواز کی تجدید کی اشد ضرورت ہے اور انہوں نے مزید یہ بھی کہا کہ اگر مقبوضہ ملک میں امریکی سفیر کی طرف جو بات منسوب کی گئی ہے وہ صحیح ہے تو یہ ایک دھوکہ دہی کی تدبیر کے سوا کچھ نہیں ہے جس کا مقصد کچھ کو دہشت زدہ کرنا اور داخلی محاذ کو غیر مستحکم کرنا ہے۔(۔۔۔)


جمعہ 30 محرم الحرام 1442 ہجرى - 18 ستمبر 2020ء شماره نمبر [15270]


انتخاباتِ مدير

ملٹی میڈیا