"قره باغ کے جنگجؤوں" کے سلسلہ میں ترکی کے خلاف بڑھ رہے ہیں دباؤ

"قره باغ کے جنگجؤوں" کے سلسلہ میں ترکی کے خلاف بڑھ رہے ہیں دباؤ

ہفتہ, 3 October, 2020 - 18:15
گزشتہ روز آرمینیائی وزارت دفاع کے ذریعہ نشر کردہ ایک ویڈیو کلپ میں ناغورني قره باغ میں آذربائیجان کی افواج پر توپ خانے سے فائر کرنے والے ایک فوجی کو دیکھا جا سکتا ہے (اے پی)
کل ترکی پر ان کرائے کے فوجیوں کے بارے میں بین الاقوامی دباؤ بڑھ گیا ہے جنھیں انقرہ نے مبینہ طور پر ناغورني قره باغ خطے میں آرمینیائی فوج کے خلاف آذربائیجان کی فوج کے ساتھ لڑنے کے لئے شام سے بھیجا ہے۔

فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے ترکی کو قره باغ میں شام سے جنگجوؤں کی تعیناتی کے خلاف متنبہ کیا ہے۔ اور کہا ہے کہ ان کو دستیاب اطلاعات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ 300 جنگجو شام سے آذربایجان کے دارالحکومت باکو غازي عينتاب شہر کے راستے منتقل ہوچکے ہیں اور انہوں نے مزید کہا ہے کہ وہ حلب کے علاقے میں سرگرم جہادی گروپوں سے آئے ہیں۔


اسی سلسلہ میں کرملین نے اعلان کیا ہے کہ روسی صدر ولادیمیر پوتن اور ارمینی وزیر اعظم نکول پشینان نے ایک فون کال کرکے مشرق وسطی سے غیر قانونی مسلح گروہوں کی لڑائی میں شرکت پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔(۔۔۔)


ہفتہ 16 صفر المظفر 1442 ہجرى - 03 اکتوبر 2020ء شماره نمبر [15285]

 


انتخاباتِ مدير

ملٹی میڈیا