کربلا کے واقعات اور ایک دوسرے پر الزامات اور الصدر کی طرف سے دھمکی

کربلا کے واقعات اور ایک دوسرے پر الزامات اور الصدر کی طرف سے دھمکی

جمعرات, 8 October, 2020 - 14:00
گزشتہ روز کربلا میں سیکیورٹی فورسز کی بھاری تعیناتی کے منظر کو دیکھا جا سکتا ہے (اے ایف پی)
ایک طرف عراق میں شیعہ سیاسی شخصیات اور قوتوں اور دوسری طرف احتجاجی تحریک گروپوں نے "چالیسوی تقریب" کے دوران کربلا میں ہونے والے واقعات کے پس منظر کے میں ایک دوسرے کے خلاف الزامات لگائے ہیں۔

کربلا میں لی گئی تصاویر اور ویڈیو کلپس میں دکھایا گیا ہے کہ ایک روز قبل سیکیورٹی اہلکاروں کی ایک بڑی تعداد ان نوجوانوں کے ایک گروپ کو زبردستی منتشر کررہی ہے جو اقتدار اور بدعنوانی کی جماعتوں کے خلاف مظاہرہ کرتے ہوئے مظاہرین کی ہلاکت کی تصاویر لئے ہوئے تھے اور ایران اور امریکہ کے خلاف دشمنی کے نعرے لگارہے تھے۔


گزشتہ روز صدر تحریک کے رہنما مقتدا الصدر، نوری المالکی کی زیرقیادت "اسلامی دعوہ" پارٹی، اہل حق گروپ کے سکریٹری جنرل قیس الخزعلي اور دیگر افراد سمیت بااثر رہنماء، فورسز اور جماعتیں نکل کر سامنے آئے ہیں۔(۔۔۔)


جمعرات 21 صفر المظفر 1442 ہجرى - 08 اکتوبر 2020ء شماره نمبر [15290]


انتخاباتِ مدير

ملٹی میڈیا