لبنانی انتخابی قانون میں ترمیم پر فرقہ وارانہ اختلافات

لبنانی انتخابی قانون میں ترمیم پر فرقہ وارانہ اختلافات

جمعہ, 9 October, 2020 - 18:00
بیروت میں ایک کیشیئر کو لبنانی کرنسی کے مقابلہ ڈالروں کی گنتی کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے اور یاد رہے کہ لبنانی کرنسی نے گزشتہ اکتوبر سے اب تک اپنی قیمت کا تقریبا80٪ قیمت کھو چکی ہے (رائٹرز)
لبنان میں پارلیمانی انتخابات کے لئے ایک نئے قانون سے متعلق اختلافات نے اس طرح فرقہ وارانہ شکل اختیار کرلیا ہے کہ چند لوگ اس قانون کے حامی ہو گئے ہیں جو فرقہ وارانہ پابندی سے باہر متناسب ووٹنگ کے نظام کو اپنانا چاہتے ہیں اور سینیٹ کی طرف سے ایک کمیٹی کا قیام بھی چاہتے ہیں جس میں فرقوں کی منصفانہ نمائندگی ہو سکے اور کچھ لوگ اس تجویز سے فرقوں کے مابین توازن کو خطرہ سمجھ رہے ہیں اور یاد رہے کہ آئندہ پارلیمانی انتخابات مئی 2022 میں ہوں گے۔

انتخابی نئے قانون کی بحث کا آغاز پرسو ایوان نمائندگان میں مشترکہ کمیٹی کے اجلاس میں ہوا ہے جس کی وجہ سے یہ تصادم ہوا  ہے اور قانون کی تجاویز پیش کی گئیں ہیں جن میں پارلیمنٹ کے اسپیکر نبیہ بری کی سربراہی میں "ترقی اور لبریشن" کے بلاک کے ذریعہ ایک قانون پیش کیا گیا ہے اور فرقہ وارانہ پابندی سے باہر متناسب ووٹنگ کا نظام اپنانے کی تجویز بھی پیش کی گئی ہے۔(۔۔۔)


جمعہ 22 صفر المظفر 1442 ہجرى - 09 اکتوبر 2020ء شماره نمبر [15291]


انتخاباتِ مدير

ملٹی میڈیا