نیس کے واقعہ کی وجہ سے فرانس اور میکرون کے چیلنج میں ہوا اضافہ

نیس کے واقعہ کی وجہ سے فرانس اور میکرون کے چیلنج میں ہوا اضافہ

جمعہ, 30 October, 2020 - 10:30
نیس میں چرچ کے قریب حملے کے مقام کا معائنہ کرتے ہوئے پولیس کے ارکان اور میڈیکل کے ماہرین کو دیکھا جا سکتا ہے (ڈی پی اے) دائرہ میں میکرون کو جائے واردات کا دورہ کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے (رائٹرز)
گستاخانہ کارٹونوں کی وجہ سے بڑھتے ہوئے بحران کے ساتھ ہی فرانس میں دوبارہ ایک دہشت گرد حملہ ہوا ہے جس میں گزشتہ روز نیس کے ایک چرچ کے قریب 3 افراد ہلاک ہوئے ہیں اور صدر ایمانوئل میکرون نے عبادت گاہوں اور اسکولوں کی حفاظت کے لئے سیکیورٹی انتباہ بڑھانے اور سیکیورٹی فورسز میں اضافہ کا اعلان کرتے ہوئے اتحاد اور ڈر وخوف کے جذبات کے سامنے ہتھیار نہ ڈالنے پر زور دیا ہے۔

فرانس اس وقت لرز اٹھا جب چاقو سے مسلح شخص نیس (جنوب مشرقی) میں صبح نو بجے کے قریب چرچ آف نوٹری ڈیم میں داخل ہوا اور اس نے چرچ کے نوکر اور ایک بزرگ خاتون کو ذبح کرکے اور ایک تیسری خاتون کے جسم پر چھرا گھونپ دیا جس کی وجہ سے یہ تیسری خاتون وہی ہلاک ہوگئی اور جارحانہ کارٹونوں کے بحران اور کورونا کی وجہ سے نئی بندش کے ساتھ ہی اس جرم نے فرانس اور میکرون کے لئے ایک چیلنج پیدا کردیا ہے۔


پولیس حملہ آور کو گرفتار کرنے میں کامیاب رہی ہے اور پولیس ذرائع نے بتایا کہ قانون نافذ کرنے والے حکام کا خیال ہے کہ حملہ آور 21 سالہ تیونسی ہے اور اس کا نام ابراہیم ہے اور وہ گزشتہ ماہ کے آخر میں اٹلی کے لمپیڈوسا پہنچا جہاں حکومت نے اسے قیدخانے میں رکھا پھر اسے اٹلی چھوڑنے پر مجبور کیا اور وہ رواں ماہ کے اوائل میں فرانس آگيا۔(۔۔۔)


جمعہ 13 ربیع الاول 1442 ہجرى – 30 اکتوبر 2020ء شماره نمبر [15312]


Related News



انتخاباتِ مدير

ملٹی میڈیا