یورپ کورونا کی "دوسری لہر" کے سامنے ڈھیر اور کئے اپنے دروازے بند

یورپ کورونا کی "دوسری لہر" کے سامنے ڈھیر اور کئے اپنے دروازے بند

پیر, 2 November, 2020 - 11:30
جرمنی میں گزشتہ روز "کورونا" کی وجہ سے سخت پابندیوں کے خلاف احتجاج کے منظر کو دیکھا جا سکتا ہے (ای پی اے)
کل یوروپین براعظم میں 10 ملین سے بھی زیادہ کیس سامنے آئے ہیں اور "کوویڈ ۔19" کیسوں کی تصدیق شدہ تعداد 5 ہفتوں کے اندر دوگن ہوگئی ہے اور ایسا لگ رہا ہے کہ یہ یہ ملک اس بیماری کا مرکز بن گیا ہے اور خبر رساں ادارے روئٹرز کے اعداد وشمار کے مطابق یورپ جہاں دنیا کی 10 فیصد آبادی رہتی ہے آج عالمی سطح پر ہونے والے کورونا وائرس کے کیسوں میں سے 22 فیصد کیس وہاں کا ہے۔

اس وبا کی دوسری پرتشدد لہر کے بیچ فرانس، جرمنی اور برطانیہ نے کم سے کم ایک ماہ کے لئے عام تنہائی کے اقدامات کا اعلان کیا ہے اور یہ اقدام مارچ اور اپریل میں عائد پابندیوں کی طرح ہوگا اور اسی طرح پرتگال، اٹلی اور اسپین نے بھی احتیاطی پابندیاں سخت کردی ہیں۔


مزید برآں سعودی عرب نے کل سخت احتیاطی تدابیر اور حاجیوں کے راحت وحفاظت کے لئے فراہم کردہ خدمات کے ایک مربوط نظام کے تحت بیرون ملک سے لگ بھگ 300 عازمین کا استقبال کیا ہے جو پاکستان اور انڈونیشیا سے آئے ہیں اور حج وعمرہ کے وزیر محمد بنتن نے کہا ہے کہ آنے والے تمام عازمین کے پاس "کورونا" کی نیگیٹیو سرٹیفکیٹ ہے اور ان سب کو عمرہ کے آغاز سے تین دن پہلے تک کورنٹائن کیا جانا ہے۔(۔۔۔)


پیر 16 ربیع الاول 1442 ہجرى – 02 نومبر 2020ء شماره نمبر [15315]


انتخاباتِ مدير

ملٹی میڈیا