بین الاقوامی ماہرین سعودی عرب میں کورونا ویکسین کی تیاری اور تقسیم کے وقت کے منصوبے پر تبادلہ خیال کر رہے ہیں

سعودی عرب میں چوبیس گھنٹے لیب ٹیسٹ جاری ہیں (فوٹو: بشیر صالح)
سعودی عرب میں چوبیس گھنٹے لیب ٹیسٹ جاری ہیں (فوٹو: بشیر صالح)
TT

بین الاقوامی ماہرین سعودی عرب میں کورونا ویکسین کی تیاری اور تقسیم کے وقت کے منصوبے پر تبادلہ خیال کر رہے ہیں

سعودی عرب میں چوبیس گھنٹے لیب ٹیسٹ جاری ہیں (فوٹو: بشیر صالح)
سعودی عرب میں چوبیس گھنٹے لیب ٹیسٹ جاری ہیں (فوٹو: بشیر صالح)
سائنسدانوں اور دنیا بھر میں ویکسین تیار کرنے والوں نے آپیشنل کارکردگی اور نئی کورونا وائرس (کوویڈ ۔19) ویکسین تیار کرنے اور عالمی سطح پر تقسیم کرنے کے لئے ٹائم لائن پر تبادلہ خیال کیا ہے۔

سعودی دار الحکومت ریاض میں "کوفیڈ 19 ویکسین: عالمی چیلنجز اور مستقبل" کے عنوان سے طبی تحقیق کے لئے گیارہویں سالانہ فورم منعقد کی جا رہی ہے اور یہ جی 20 کے لئے سعودی کی صدارت کے سال کے موقع پر منعقدہ بین الاقوامی کانفرنسوں کے پروگراموں کا ایک حصہ ہے۔

ویڈیو کال کے دوران ماہرین نے ویکسین کی نشوونما سے متعلق تازہ ترین معلومات کے سلسلہ میں تبادلہ خیال کیا ہے اور موجودہ کورونا وائرس ویکسین، کلینیکل ٹرائل ڈیٹا اور تھوڑے وقت میں ویکسین کے دستیاب ہونے کے امکانات کا بھی جائزہ لیا گیا ہے اور  ویکسین کی پیداوار سے وابستہ عالمی طبی صلاحیتوں کا بھی جائزہ لیا گیا ہے۔(۔۔۔)

جمعرات  19 ربیع الاول 1442 ہجرى – 05 نومبر 2020ء شماره نمبر [15318]



آسٹریلیا نے لبنان میں اسرائیلی حملے میں اپنے 2 شہریوں کی ہلاکت کی تصدیق کر دی ہے۔

اسرائیل کی سرحد پار جاری کشیدگی کے دوران اسرائیلی بمباری کے بعد جنوبی لبنان میں دھواں اٹھ رہا ہے (اے ایف پی)
اسرائیل کی سرحد پار جاری کشیدگی کے دوران اسرائیلی بمباری کے بعد جنوبی لبنان میں دھواں اٹھ رہا ہے (اے ایف پی)
TT

آسٹریلیا نے لبنان میں اسرائیلی حملے میں اپنے 2 شہریوں کی ہلاکت کی تصدیق کر دی ہے۔

اسرائیل کی سرحد پار جاری کشیدگی کے دوران اسرائیلی بمباری کے بعد جنوبی لبنان میں دھواں اٹھ رہا ہے (اے ایف پی)
اسرائیل کی سرحد پار جاری کشیدگی کے دوران اسرائیلی بمباری کے بعد جنوبی لبنان میں دھواں اٹھ رہا ہے (اے ایف پی)

آسٹریلیا نے آج جمعرات کے روز تصدیق کی کہ اس کے دو شہری جنوبی لبنان کو نشانہ بنانے والے اسرائیلی فضائی حملے میں مارے گئے ہیں۔ اس نے نشاندہی کی کہ وہ "حزب اللہ" کے ان دعوں کی تحقیقات کر رہا ہے کہ ان میں سے ایک کا تعلق مسلح گروپ سے تھا۔

آسٹریلیا کے قائم مقام وزیر خارجہ مارک ڈریفس نے ایک پریس کانفرنس میں کہا: "ہم اس خاص شخص سے متعلق تحقیقات جاری رکھیں گے جس کے بارے میں حزب اللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ اس سے منسلک تھا۔"

انہوں نے مزید کہا: "حزب اللہ نے اعلان کیا ہے کہ یہ آسٹریلوی اس کے جنگجوؤں میں سے ایک ہے، جس پر ہماری تحقیقات جاری ہیں۔"

ڈریفس نے نشاندہی کی کہ "حزب اللہ آسٹریلیا میں درج شدہ ایک دہشت گرد تنظیم ہے،" اور کسی بھی آسڑیلوی شہری کے لیے اسے مالی مدد فراہم کرنا یا اس کی صفوں میں شامل ہو کر لڑنا جرم شمار پوتا ہے۔

خیال رہے کہ یہ اسرائیلی حملہ منگل کی شام دیر گئے ہوا جس میں بنت جبیل قصبے میں ایک گھر کو نشانہ بنایا گیا، جب کہ اس قصبے میں ایرانی حمایت یافتہ "حزب اللہ" گروپ کو وسیع سپورٹ حاصل ہے۔

ڈریفس نے کہا کہ آسٹریلوی حکومت نے اس حملے کے بارے میں اسرائیل سے رابطہ کیا تھا، لیکن انہوں نے اس دوران ہونے والی بات چیت کا ظاہر کرنے سے انکار کر دیا۔

انہوں نے لبنان میں آسٹریلوی باشندوں پر زور دیا کہ وہ ملک چھوڑ دیں کیونکہ ابھی بھی تجارتی پروازوں کی آپشن موجود ہے۔

یاد رہے کہ اکتوبر میں غزہ میں اسرائیل اور تحریک "حماس" کے مابین جنگ شروع ہونے کے بعد سے "حزب اللہ" لبنان کی جنوبی سرحد کے پار اسرائیل کے ساتھ تقریباً روزانہ کی بنیاد پر فائرنگ کا تبادلہ کرتی ہے۔

جمعرات-15 جمادى الآخر 1445ہجری، 28 دسمبر 2023، شمارہ نمبر[16466]