بائیڈن نے اپنی کامیابی کی تقریر میں اتحاد کا مطالبہ کیا

بائیڈن نے اپنی کامیابی کی تقریر میں اتحاد کا مطالبہ کیا

اتوار, 8 November, 2020 - 09:45
کل ولمنگٹن میں صدارتی انتخاب جیت کر بائیڈن اور ہیرس کو اپنے اہل خانہ کے ساتھ جشن مناتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے (ای پی اے)
کئی مہینوں تک جاری رہنے والی دوڑ کے نتائج کا انتظار کرنے والی ایک مشکل دوڑ کے بعد ڈیموکریٹک امیدوار جو بائیڈن اس وقت ریاستہائے متحدہ امریکہ کے صدر منتخب ہوئے ہیں جب انہوں نے سبکدوش ہونے والے ریپبلکن صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مخالفین کی فتح کو جعلی قرار دینے کے اصرار کے باوجود  پنسلوانیا کا حتمی فیصلہ کیا ہے۔

صوبہ ڈیلویئر میں ولمنگٹن میں اپنی انتخابی مہم کے ہیڈ کوارٹر میں ایک تیز پارٹی میں  بائیڈن نے اپنے ہزاروں حامیوں کے سامنے اعلان کیا ہے کہ امریکی عوام نے امریکی صدارتی انتخابات میں ایک غیر معمولی تعداد 74 ملین سے زیادہ ووٹ دے کرکے انہیں واضح کامیابی دی ہے اور انہوں نے اس ووٹ کو اپنے اور نائب صدر کملا ہیرس کے لئے بہتر کل کی امید کی تجدید قرار دیتے ہوئے ایسا صدر بننے کا وعدہ کیا ہے جو امریکیوں کو متحد کرنے والا ہے۔


بائیڈن نے اپنے ریپبلکن مخالف ٹرمپ کے حامیوں کی طرف اپنا ہاتھ بڑھایا ہے اور کہا ہے کہ وہ ان کے نقصان کا معنی جانتے ہیں کیونکہ انہوں نے اپنے انتخابی نقصانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اس سے پہلے اس کا تجربہ کیا ہے اور انہوں نے ان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ہمارے پیچھے سخت انتخابی بیان بازی کریں  لیکن ایک دوسرے کے ساتھ دشمن کی حیثیت سے معاملہ نہ کریں اور یہ بھی کہا کہ اب امریکہ کا علاج کرنے کا وقت آگیا ہے۔(۔۔۔)


اتوار 22 ربیع الاول 1442 ہجرى – 08 نومبر 2020ء شماره نمبر [15321]


انتخاباتِ مدير

ملٹی میڈیا