کاراباخ میں پوتن کی مداخلت کی وجہ سے رکی جنگ

کاراباخ میں پوتن کی مداخلت کی وجہ سے رکی جنگ

بدھ, 11 November, 2020 - 14:15
گزشتہ روز یریوان میں آرمینیائی پارلیمنٹ کے صدر دفتر میں مظاہرین کو معاہدے کے خلاف احتجاج کرنے کے ساتھ ساتھ دائرہ میں پوتن اور علیئیف کو گزشتہ روز معاہدہ پر دستخط کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے (ای پی اے)
گزشتہ روز روسی صدر ولادیمیر پوتن کی اچانک مداخلت کے فورا بعد کاراباخ میں لڑائی کے محاذوں پر پیشرفتوں میں تیزی آئی ہے جس کے نتیجے میں ارمینیا اور آذربائیجان کے ساتھ سہ فریقی معاہدے پر دستخط کا اعلان ہوا ہے اور اس سے فوری طور پر جنگ بندی کی سہولت فراہم ہوئی ہے اور گزشتہ روز ماسکو نے نئی آرمسٹائس لائن کے ساتھ متحارب فریقوں کو الگ کرنے کے لئے فورسز کی تعیناتی شروع کردی ہے۔

معاہدے کے اعلان کے فورا بعد ہی یریوان اور دیگر آرمینی علاقوں میں وسیع پیمانے پر احتجاج ہوا ہے اور مظاہرین نے آذربائیجان کے سامنے ہتھیار ڈالنے سے انکار کرتے ہوئے پارلیمنٹ کی عمارت اور دیگر سرکاری سہولیات پر دھاوا بول دیا ہے۔(۔۔۔)


بدھ 25 ربیع الاول 1442 ہجرى – 11 نومبر 2020ء شماره نمبر [15324]


انتخاباتِ مدير

ملٹی میڈیا