پومپیو نے روس پر "قزاقی" کا لگایا الزام اور ٹرمپ کی نگاہ میں چین بھی قابل گرفتhttps://urdu.aawsat.com/home/article/2694071/%D9%BE%D9%88%D9%85%D9%BE%DB%8C%D9%88-%D9%86%DB%92-%D8%B1%D9%88%D8%B3-%D9%BE%D8%B1-%D9%82%D8%B2%D8%A7%D9%82%DB%8C-%DA%A9%D8%A7-%D9%84%DA%AF%D8%A7%DB%8C%D8%A7-%D8%A7%D9%84%D8%B2%D8%A7%D9%85-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D9%B9%D8%B1%D9%85%D9%BE-%DA%A9%DB%8C-%D9%86%DA%AF%D8%A7%DB%81-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%DA%86%DB%8C%D9%86-%D8%A8%DA%BE%DB%8C-%D9%82%D8%A7%D8%A8%D9%84-%DA%AF%D8%B1%D9%81%D8%AA
پومپیو نے روس پر "قزاقی" کا لگایا الزام اور ٹرمپ کی نگاہ میں چین بھی قابل گرفت
مئی 2019 میں سوچی کے اندر پومپیو اور لاوروف کے مابین ملاقات کے منطر کو دیکھا جا سکتا ہے (اے ایف پی)
ہفتے کے روز سبکدوش ہونے والے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سرکاری سکریٹری مائک پومپیو سے وسیع پیمانے پر امریکی سرکاری ایجنسیوں کو نشانہ بنانے والے سائبر قزاقی کے معاملہ کی مخالفت کی ہے۔
پومپیو نے روس پر بحری قزاقی کا الزام عائد کرتے ہوئے اس معاملہ کو امریکی تاریخ کا سب سے خطرناک معاملہ قرار دیا ہے جبکہ ٹرمپ نے اس قزاقی کے سلسلہ میں اپنے پہلے عوامی ٹویٹر میں لکھا ہے کہ مجھے پوری طرح سے آگاہ کیا گیا ہے اور سب کچھ کنٹرول میں ہے اور انہوں نے مزید کہا کہ روس، روس، روس، یہ پہلا لازمی ملک ہے جس کا ذکر ہر معاملہ میں کیا جائے گا اور انہوں نے اس بات کی طرف بھی اشارہ کیا کہ چین بھی اس میں شامل ہو سکتا ہے۔(۔۔۔)
دی ہیگ میں "نسل کشی" کے الزام کے بارے میں اسرائیلی تشویشhttps://urdu.aawsat.com/%D8%AE%D8%A8%D8%B1%D9%8A%DA%BA/4785126-%D8%AF%DB%8C-%DB%81%DB%8C%DA%AF-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D9%86%D8%B3%D9%84-%DA%A9%D8%B4%DB%8C-%DA%A9%DB%92-%D8%A7%D9%84%D8%B2%D8%A7%D9%85-%DA%A9%DB%92-%D8%A8%D8%A7%D8%B1%DB%92-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D8%A7%D8%B3%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%8C%D9%84%DB%8C-%D8%AA%D8%B4%D9%88%DB%8C%D8%B4
دی ہیگ میں "نسل کشی" کے الزام کے بارے میں اسرائیلی تشویش
بین الاقوامی عدالت انصاف کے پینل نے کل دی ہیگ میں جنوبی افریقہ کی طرف سے اسرائیل کے خلاف دائر کردہ "نسل کشی" کے مقدمے کی سماعت کا آغاز کیا (ای پی اے)
جنوبی افریقہ کی طرف سے دی ہیگ میں بین الاقوامی عدالت انصاف کے سامنے اسرائیل کے خلاف دائر کیے گئے مقدمے کے نتائج کے بارے میں اسرائیلی حکومت میں تشویش پائی جاتی ہے۔ اقوام متحدہ کے اعلیٰ ترین عدالتی ادارے کی نمائندگی کرنے والی اس عدالت، جس کا صدر دفتر دی ہیگ میں ہے، نے کل جمعرات کے روز سے سماعت کا آغاز کیا جو دو دن تک جاری رہے گی۔
پریٹوریا نے عبرانی ریاست پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے غزہ کی پٹی میں "نسل کشی کی روک تھام" معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے اور جو اسرائیل غزہ کی پٹی میں کر رہا ہے اس کا جواز 7 اکتوبر 2023 کو تحریک "حماس" کی طرف سے شروع کیے گئے حملے ہرگز نہیں ہو سکتے۔
جنوبی افریقہ نے عدالت میں دائر 84 صفحات پر مشتمل شکایت میں ججوں پر زور دیا ہے کہ وہ اسرائیل کو غزہ کی پٹی میں "فوری طور پر اپنی فوجی کاروائیاں بند کرنے" کا حکم دیں۔ کیونکہ اس کا یہ خیال ہے کہ اسرائیل نے "غزہ میں فلسطینی عوام کے خلاف نسل کشی کی کاروائیاں کی ہیں، وہ کر رہا ہے اور آئندہ بھی جاری رکھ سکتا ہے۔" عدالت میں جنوبی افریقہ کے وفد کی وکیل عدیلہ ہاشم نے کہا کہ "عدالت کے پاس پہلے ہی سے پچھلے 13 ہفتوں کے دوران جمع شدہ شواہد موجود ہیں جو بلاشبہ اس کے طرز عمل اور ارادوں کو ظاہر کرتے ہوئے نسل کشی کے معقول الزام کو جواز بناتے ہیں۔" (...)
جمعہ-30 جمادى الآخر 1445ہجری، 12 جنوری 2024، شمارہ نمبر[16481]