"تبدیل شدہ کورونا" کو روکنے کے لئے یورپ میں سفر سے متعلق نئی پابندیاں

"تبدیل شدہ کورونا" کو روکنے کے لئے یورپ میں سفر سے متعلق نئی پابندیاں

اتوار, 31 January, 2021 - 09:45
فرانس میں بڑے شاپنگ سینٹرز کی بندش کے شام پیرس میں ایک شاپنگ سینٹر کے سامنے ہجوم کو دیکھا جا سکتا ہے (اے ایف پی)
یوروپی ممالک نے سفر پر نئی پابندیاں عائد کردی ہیں کیونکہ "کوویڈ ۔19" انفیکشن کی وجہ سے ہونے والی تعداد میں زیادتی سے صحت کی دیکھ بھال کے نظام پر بوجھ بڑھتا جا رہا ہے اور بیلجیکا کے بعد جرمنی نے ہفتہ کے دن سے تغیر پزیر وائرس کے وسیع و ریض ہونے والے ممالک کی طرف سے زمینی، سمندری اور ہوا کے ذریعے داخلے پر پابندی عائد کرنے کا اعلان کیا ہے جبکہ فرانس نے ضروری سفر کے علاوہ یورپی یونین کے باہر سے آنے والے تمام مسافروں کے لئے اپنی سرحدیں بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور یہ اقدام آج سے شروع ہو رہا ہے۔

دریں اثنا عالمی ادارۂ صحت کے ڈائریکٹر ٹیڈروس اذانوم گریبیسس نے "ویکسینوں میں قوم پرستی" کے بارے میں متنبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ واقعی خطرہ ان ٹولز میں ہی ہے جن سے وبا کو ختم کرنے میں مدد ملے گی کیونکہ پوری دنیا میں عدم مساوات میں اضافہ ہو رہا ہے اور ایسا یورپی یونین اور برطانیہ کے مابین ہونے والے تنازعہ کے بعد ہوا ہے، یہاں تک کہ امیر ممالک میں بھی ویکسینیشن کے وسیع پیمانے پر پروگراموں پر فراہمی کی کمی کے مضمرات پر روشنی ڈالی گئی ہے۔


اسی سے متعلق ڈبلیو ایچ او کے ماہرین چین کے شہر ووہان میں وبا کے منبع کی تلاش کے مشن کو جاری رکھے ہوئے ہیں جہاں وائرس پہلی بار سنہ 2019 کے آخر میں ظاہر ہوا تھا۔(۔۔۔)


اتوار 18 جمادی الآخر 1442 ہجرى – 31 جنوری 2021ء شماره نمبر [15404]


انتخاباتِ مدير

ملٹی میڈیا