ترکی اور بائیڈن انتظامیہ کے مابین تعلقات کی ایک بری شروعات

ترکی اور بائیڈن انتظامیہ کے مابین تعلقات کی ایک بری شروعات

جمعہ, 5 February, 2021 - 15:00
استنبول میں گزشتہ روز یونیورسٹی کے مظاہروں کے دوران ترک سیکیورٹی کو ایک طالب علم کو گھیرے میں لیتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے (رائٹرز)
کل ایسا معلوم ہوا ہے کہ نئی امریکی انتظامیہ کے ساتھ ترکی کے تعلقات کی شروعات خراب ہوئی ہے جبکہ اس سے پہلے انقرہ نے واشنگٹن پر 2016 میں بغاوت کی ناکام کوشش کے پیچھے ہونے کا الزام عائد کیا ہے اور امریکی محکمہ خزانہ کی طرف سے گزشتہ ماہ جاری کردہ ایک رپورٹ میں داعش کے لئے فنڈ جمع کرنے کے سلسلہ میں ترکی پر الزام عائد کیا گیا ہے۔

ترکی کے وزیر داخلہ سلیمان صویلو نے گزشتہ روز اپنے ایک بیان میں اس بات کی تصدیق کی ہے کہ انقرہ نے اس بغاوت کے پیچھے امریکہ کا ہاتھ ہے جس کی نسبت انقرہ نے امریکہ میں موجود فتح اللہ گولن کی طرف کی ہے جنہوں نے اس سے قبل ترک الزامات کی تردید کی ہے۔


صویلو نے ترک اخبار حریت کو بتایا ہے کہ امریکہ نے بغاوت کی کوششوں کا آغاز اس وقت کیا جب اسے گولن مبلغین کے نیٹ ورک نے انجام دیا ہے اور انہوں نے مزید کہا کہ یہ بات بالکل واضح ہے کہ امریکہ 15 جولائی کو کوشش کی گئی بغاوت کے پیچھے ہے اور گولن نیٹ ورک نے امریکہ کے احکامات کے مطابق اسے انجام دیا ہے اور یہ ساری معلومات رائٹرز نے نقل کیا ہے اور اس نے اس بات کی طرف بھی اشارہ کیا ہے کہ ترکی نے ناکام بغاوت کے بعد سے گولن سے تعلقات ہونے کے شبے میں تقریبا 292 ہزار افراد کو گرفتار کر چکا ہے اور ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ سرکاری ملازمین کو ملازمت سے برطرف یا معطل کردیا ہے۔(۔۔۔)



جمعہ 23 جمادی الآخر 1442 ہجرى – 05 فروری 2021ء شماره نمبر [15410]


انتخاباتِ مدير

ملٹی میڈیا