ایرانی پارلیمنٹ نے "جوہری معاہدے" میں واپس جانے کے سلسلہ میں بلنکن کے منصوبے پر کی تنقید

ایرانی پارلیمنٹ نے "جوہری معاہدے" میں واپس جانے کے سلسلہ میں بلنکن کے منصوبے پر کی تنقید

پیر, 1 February, 2021 - 06:30
کل کے اجلاس میں پارلیمنٹ کے ممبران کو اپنے صدر محمد باقر قالیباف سے گفتگو کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے (پارلیمنٹ کی ویب سائٹ)
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے قرضوں کے وعدوں کے مقابلہ میں نقدا ادا کرنے کے کھیل کے سلسلہ میں وائٹ ہاؤس کو خبردار کیا ہے اور تہران کی طرف سے پابندی کرنے کے بعد جوہری معاہدے میں واپسی کے لئے امریکی وزیر خارجہ انتٹونی بلنکن کے منصوبے کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور ایک طویل اور مضبوط معاہدہ کی تشکیل کی جستجو کو بھی تنقید کا نشانہ جنایا ہے جس سے مشکل مسائل کو انتہائی حد تک حل کیا جا سکے۔

انہوں نے گزشتہ روز ایرانی پارلیمنٹ اجلاس کے آغاز میں کہا ہے کہ بلنکن کا مؤقف مایوس کن ہے اور انہوں نے امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پیشگی شرائط طے کرنے کی بجائے عملی طور پر پابندیاں اٹھانے کے سلسلہ میں اپنی وضاحت پیش کریں اور انہوں نے مزید کہا کہ اگر امریکہ کو جوہری معاہدے پر یقین ہے تو اسے شرائط طے کرنے کے بجائے عملی طور پر اس سے اپنی وابستگی کا اظہار کرنا چاہئے۔


حالیہ دنوں میں ایران اور امریکی انتظامیہ نے ایک دوسرے کے سامنے چند شرائط رکھے ہیں اور دوسری فریق سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ جوہری معاہدے کے خیمے کے تحت تعلقات کو معمول پر لانے کے راستے میں پہلا قدم اٹھائے اور مئی 2018 میں ڈونلڈ ٹرمپ کے انخلا سے پہلے کی حالت کی طرف واپس آئے اور تہران نے معاہدے کی طرف واپس آنے کے لئے واشنگٹن سے ایک ہی مرتبہ پابندیاں ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے جبکہ وائٹ ہاؤس نے واپسی کے منصوبے کو تہران کی طرف سے تمام خلاف ورزیوں سے پیچھے ہٹنے کے ساتھ مشروط کیا ہے۔(۔۔۔)


پیر 19 جمادی الآخر 1442 ہجرى – 01 فروری 2021ء شماره نمبر [15406]


انتخاباتِ مدير

ملٹی میڈیا