دمشق نے تل ابیب کے ساتھ روسی ثالثی کا کیا اعتراف

دمشق نے تل ابیب کے ساتھ روسی ثالثی کا کیا اعتراف

جمعرات, 18 February, 2021 - 10:30
دمشق کے جنوب میں یرموک کیمپ میں ملبے کے درمیان سوار ایک خاندان کو موٹرسائکل پر دیکھا جا سکتا ہے (ای پی اے)
گزشتہ روز دمشق نے شام اور اسرائیل کے مابین قیدی تبادلے کے لئے تل ابیب کے ساتھ روسی ثالثی کے وجود کی تصدیق کی ہے اور گزشتہ روز شام کی سرکاری خبر رساں ایجنسی (سانا) نے اطلاع دی ہے کہ اس وقت روسی ثالثی کے ذریعہ نہال المقت اور ذياب قهموز کو آزاد کرانے کے سلسلے میں ایک کاروائی ہونی ہے جس کے دوران اس اسرائیلی خاتون کو آزاد کیا جائے گا جو غلطی سے قنیطرہ کے خطے میں داخل ہو گئی تھی جہاں سے اسے گرفتار کر لیا گیا تھا۔

فلسطینی قیدیوں کے کلب نے بدھ کے روز اعلان کیا ہے کہ قابض جیل خانہ انتظامیہ نے قہموز کو طلب کیا ہے تاکہ اسے رہا کرکے شام بھیجنے کے فیصلے سے آگاہ کیا جائے اور یہ کاروائی شام اور اسرائیل کے مابین روس کے ذریعہ ثالثی کے معاہدے کے تحت ہو رہی ہے اور یہ اقدام اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاھو کی طرف سے منگل کی شام کابینہ کے ہنگامی اجلاس طلب کرنے کے چند روز بعد سامنے آیا ہے جب انہوں نے روسی صدر ولادیمیر پوتن سے رابطہ کیا تھا۔


اسی سلسلہ میں شام میں روسی صدر کے مندوب الیگزینڈر لاورنتیاف نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ ماسکو اور تل ابیب کے مابین جاری مشاورت کے نتیجے میں شام میں اسرائیلی حملوں کو روکنے کے سلسلہ میں ایک معاہدہ نکل کر سامنے آئے گا۔(۔۔۔)


جمعرات 07 رجب 1442 ہجرى – 18 فروری 2021ء شماره نمبر [15423]


Related News



انتخاباتِ مدير

ملٹی میڈیا