مارب: ایک حوثی جاسوس سیل جس میں خواتین اور بچے موجود ہیں

مارب: ایک حوثی جاسوس سیل جس میں خواتین اور بچے موجود ہیں

پیر, 22 February, 2021 - 13:00
پرسو روز تعز پر حوثیوں کے ذریعہ ہوئے بم دھماکے میں اسپتال منتقل کئے جانے کے بعد ایک زخمی لڑکے کو دیکھا جا سکتا ہے (اے ایف پی)
مارب گورنریٹ پولیس نے ایسے شواہد پیش کیے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک حوثی جاسوس سیل ہے جس میں خواتین اور بچوں شامل ہیں اور ان کا کام قانونی حکومت کے زیر کنٹرول علاقوں میں دہشت گردی کی کارروائیوں کو انجام دینا ہے اور مارب پولیس نے گزشتہ روز ایک پریس کانفرنس میں اس گروہ کے رہنما پر ایک خفیہ ادارہ قائم کرنے کا الزام لگایا ہے جو خواتین کو شہریوں اور طبی عملے کو ہلاک کرنے کی طرف راغب کرتی ہے اور یہ بھی کہا ہے کہ یہ "القاعدہ" اور "داعش" کی طرح دہشت گردی کی کارروائیوں کو انجام دیتے ہیں۔

یمنی نیوز ایجنسی (صبا) کی اطلاع کے مطابق مارب پولیس کے ڈائریکٹر بریگیڈیئر جنرل یحیی حمید نے بیان دیا ہے کہ حوثی بھرتی کا طریقہ کار امدادی اور سول تنظیموں کے تحت بہت سے معاملات میں سرگرم عمل ہے اور غریب خاندانوں کی خواتین کو اپنی طرف راغب کرتا ہے اور انہیں سیکیورٹی کے لئے تربیت بھی دیتا ہے۔


اسی سے متعلق یمن میں اقوام متحدہ کے مندوب مارٹن گریفھیتس نے کل اتوار کو ہونے والے اس حوثی بم دھماکے کی مذمت کی ہے جس میں تعز شہر میں رہائشی محلے کو نشانہ بنایا گیا ہے  اور اس میں ایک بچہ ہلاک اور دیگر افراد زخمی ہوئے ہیں جبکہ قانونی یمنی حکومت نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سالوں سے محصور شہر میں شہریوں کے خلاف ایرانی حمایت یافتہ گروہ کی خلاف ورزیوں کو روکنے کے لئے مداخلت کریں۔(۔۔۔)


 پیر 11 رجب 1442 ہجرى – 22 فروری 2021ء شماره نمبر [15427]


انتخاباتِ مدير

ملٹی میڈیا