رشوت کے الزامات میں لیبیا کی نئی حکومت گھری ہے

رشوت کے الزامات میں لیبیا کی نئی حکومت گھری ہے

منگل, 2 March, 2021 - 11:00
لیبیا کے نامزد وزیر اعظم عبد الحمید دبیبہ کو گزشتہ ہفتے طرابلس میں پریس کانفرنس کے دوران دیکھا جا سکتا ہے (اے ایف پی)
لیبیا کی نئی حکومت رشوت کے الزامات میں گھری ہوئی ہے کیونکہ اس نئی حکومت کے ممبروں پر یہ الزام عائد کیا گیا ہے کہ انہوں نے لیبیا کے نامزد نئے وزیر اعظم عبد الحمید دبیبہ کی فہرست پاس کرنے کے لئے رقم وصول کی ہے لیکن دبیبہ نے سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں اقوام متحدہ کے زیر اہتمام پولیٹیکل ڈائیلاگ فورم کے ذریعہ اختیار کے سلسلہ میں اپنی شفافیت اور نئے ایگزیکٹو اتھارٹی کا دفاع کیا ہے۔

رواں ماہ کی آٹھویں تاریخ کو ایوان نمائندگان میں پیش کرنے کی تیاری کے لئے اپنی حکومت کی تشکیل مکمل کرنے والے دبیبہ نے پرسو روز ایک بیان میں اپنے اختیار کی شفافیت پر زور دیا ہے اور کہا ہے کہ اسی شفافیت کے ساتھ اس نئی حکومت کا انتخاب ہوا ہے اور صدارتی کونسل میں اسی کی نمائندگی ہے اور اسی طرح قومی اتحاد کی حکومت کی صدارت کا بھی انتخاب ہوا ہے اور انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ ساری کاروائیاں پوری شفافیت کے ساتھ کی گئیں ہیں جنہیں تمام اہل لیبیا نے ٹیلی ویژن پر دیکھا ہے۔


دبیبہ کے میڈیا آفس نے کہا ہے کہ وہ حکومت سازی کے عمل کو درہم برہم، قومی اتفاق رائے کو خراب کرنے اور افواہوں اور جھوٹی خبروں کو پھیلانے اور حقائق کو بدلنے کے نقطہ نظر کو اپنا کر حکومت کو اعتماد دینے کے عمل میں خلل ڈالنے کی کوشش کی نگرانی کر رہا ہے اور یہ ایک ایسا نقطہ نظر ہے جس کا سامنا لیبیا کی عوام پہلے ہی کر چکی ہے۔(۔۔۔)


منگل 19 رجب 1442 ہجرى – 02 مارچ 2021ء شماره نمبر [15435]


انتخاباتِ مدير

ملٹی میڈیا