بائیڈن کے عہد میں روس کے خلاف پہلی پابندی

بائیڈن کے عہد میں روس کے خلاف پہلی پابندی

بدھ, 3 March, 2021 - 15:15
روسی وزیر خارجہ سیرگی لاوروف کو گزشتہ روز ماسکو میں اپنے ازبک ہم منصب عبد العزیز کامیلوف کے ساتھ دیکھا جا سکتا ہے (رائٹرز)
امریکی صدر جو بائیڈن کی خفیہ انتظامیہ نے ایک انٹلیجنس رپورٹ جاری کی ہے جس میں روسی اپوزیشن کے رہنما الیکسی نوویلنی کو زہر دینے اور قید کرنے کے سلسلہ میں روسی انٹیلی جنس کے ملوث ہونے کی تصدیق کی ہے اور صدر ولادیمیر پوتن کے ذریعہ اپنے مخالفین کے خلاف بین الاقوامی سطح پر پابندی شدہ کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کرنے کی وجہ سے کریملن کے سات قریبی عہدیداروں پر پابندیاں عائد کرنے کی بھی تصدیق کی ہے اور ایک ہی وقت میں روس میں 14 اداروں اور کمپنیوں سے نمٹنے کے طریقہ کار کو سخت بھی کیا ہے۔

ان اقدامات کے ساتھ ریاستہائے متحدہ امریکہ نے یوروپی یونین اور برطانیہ کی مثال کی پیروی کی ہے جس نے روس میں افراد، اداروں اور کمپنیوں کے خلاف پابندیاں عائد کی ہے کیونکہ ان لوگوں نے ناویلنی (44 سال) کے خلاف اعصابی گیس "نووچوک" کے استعمال میں ملوث تھے اور گزشتہ اکتوبر میں پابندیاں عائد کی تھیں اور اسی طرح کے سینکڑوں حامیوں کے ساتھ ساتھ روسی مخالف انٹیلیجنٹ ایجنٹ سیرگئی اسکرپل اور اس کی بیٹی یولیا کے خلاف بھی کاروائي کی گئی ہے۔(۔۔۔)


بدھ 20 رجب 1442 ہجرى – 03 مارچ 2021ء شماره نمبر [15436]


انتخاباتِ مدير

ملٹی میڈیا