احتجاجات کی وسعت کے ساتھ ہی "امل" اور "حزب اللہ" کے مابین اختلاف

لبنان میں معاشی خراب صورتحال کے خلاف مظاہرین کو ٹائر جلاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے (ای پی اے)
لبنان میں معاشی خراب صورتحال کے خلاف مظاہرین کو ٹائر جلاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے (ای پی اے)
TT

احتجاجات کی وسعت کے ساتھ ہی "امل" اور "حزب اللہ" کے مابین اختلاف

لبنان میں معاشی خراب صورتحال کے خلاف مظاہرین کو ٹائر جلاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے (ای پی اے)
لبنان میں معاشی خراب صورتحال کے خلاف مظاہرین کو ٹائر جلاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے (ای پی اے)
جنوبی لبنان تک احتجاجی مطالبات میں توسیع ہونے اور ان وہاں کی سڑکوں کو بلاک کرنے کے نتیجے میں "شیعہ جوڑی" ("حزب اللہ" اور "امید موومنٹ") کے دونوں ستونوں کے مابین اختلافات پیدا ہو چکے ہیں جبکہ امید موومنٹ نے ان علاقوں کے اندر تحریکوں میں اپنے حامیوں کی شرکت سے انکار کیا ہے جہاں جس شیعہ جوڑی کا اثر ورسوخ ہے۔

احتجاجات بیروت کے جنوب اور جنوبی مضافاتی علاقوں تک پھیل گیا ہے جہاں روڈ بلاک کرنے کے واقعات ریکارڈ کیے گئے ہیں اور امید کے ذرائع نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ان کا ان اقدامات سے کوئی لینا دینا نہیں ہے اور انہوں نے الشرق الاوسط کو دیئے گئے بیانات میں زور دے کر کہا ہے کہ مالی اور زندگی کے بحران اور معاشی بدحالی سے نمٹنے کا عمل صرف ایک موثر حکومت کی موجودگی میں ہی کیا جاسکتا ہے اور اس کی تشکیل ہی بحرانوں سے نمٹنے کا واحد راستہ ہے۔(۔۔۔)

بدھ 27 رجب 1442 ہجرى – 10 مارچ 2021ء شماره نمبر [15443]



دی ہیگ میں "نسل کشی" کے الزام کے بارے میں اسرائیلی تشویش

بین الاقوامی عدالت انصاف کے پینل نے کل دی ہیگ میں جنوبی افریقہ کی طرف سے اسرائیل کے خلاف دائر کردہ "نسل کشی" کے مقدمے کی سماعت کا آغاز کیا (ای پی اے)
بین الاقوامی عدالت انصاف کے پینل نے کل دی ہیگ میں جنوبی افریقہ کی طرف سے اسرائیل کے خلاف دائر کردہ "نسل کشی" کے مقدمے کی سماعت کا آغاز کیا (ای پی اے)
TT

دی ہیگ میں "نسل کشی" کے الزام کے بارے میں اسرائیلی تشویش

بین الاقوامی عدالت انصاف کے پینل نے کل دی ہیگ میں جنوبی افریقہ کی طرف سے اسرائیل کے خلاف دائر کردہ "نسل کشی" کے مقدمے کی سماعت کا آغاز کیا (ای پی اے)
بین الاقوامی عدالت انصاف کے پینل نے کل دی ہیگ میں جنوبی افریقہ کی طرف سے اسرائیل کے خلاف دائر کردہ "نسل کشی" کے مقدمے کی سماعت کا آغاز کیا (ای پی اے)

جنوبی افریقہ کی طرف سے دی ہیگ میں بین الاقوامی عدالت انصاف کے سامنے اسرائیل کے خلاف دائر کیے گئے مقدمے کے نتائج کے بارے میں اسرائیلی حکومت میں تشویش پائی جاتی ہے۔ اقوام متحدہ کے اعلیٰ ترین عدالتی ادارے کی نمائندگی کرنے والی اس عدالت، جس کا صدر دفتر دی ہیگ میں ہے، نے کل جمعرات کے روز سے سماعت کا آغاز کیا جو دو دن تک جاری رہے گی۔

پریٹوریا نے عبرانی ریاست پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے غزہ کی پٹی میں "نسل کشی کی روک تھام" معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے اور جو اسرائیل غزہ کی پٹی میں کر رہا ہے اس کا جواز 7 اکتوبر 2023 کو تحریک "حماس" کی طرف سے شروع کیے گئے حملے ہرگز نہیں ہو سکتے۔

جنوبی افریقہ نے عدالت میں دائر 84 صفحات پر مشتمل شکایت میں ججوں پر زور دیا ہے کہ وہ اسرائیل کو غزہ کی پٹی میں "فوری طور پر اپنی فوجی کاروائیاں بند کرنے" کا حکم دیں۔ کیونکہ اس کا یہ خیال ہے کہ اسرائیل نے "غزہ میں فلسطینی عوام کے خلاف نسل کشی کی کاروائیاں کی ہیں، وہ کر رہا ہے اور آئندہ بھی جاری رکھ سکتا ہے۔" عدالت میں جنوبی افریقہ کے وفد کی وکیل عدیلہ ہاشم نے کہا کہ "عدالت کے پاس پہلے ہی سے پچھلے 13 ہفتوں کے دوران جمع شدہ شواہد موجود ہیں جو بلاشبہ اس کے طرز عمل اور ارادوں کو ظاہر کرتے ہوئے نسل کشی کے معقول الزام کو جواز بناتے ہیں۔" (...)

جمعہ-30 جمادى الآخر 1445ہجری، 12 جنوری 2024، شمارہ نمبر[16481]