نیتن یاھو نے وزارت خارجہ کو ایک خط بھیجا ہے جس میں اشکنازی کو بتایا گیا ہے کہ جو دورہ کل ہونا تھا وہ وزیر اعظم کے لئے ناپسندیدہ تھا اور نیتن یاھو نے تین ماہ قبل اپنے وزراء کو واضح طور پر آگاہ کیا تھا کہ کوئی بھی اسرائیلی سیاستدان مجھ سے پہلے امارات کا سفر نہیں کرے گا۔
دونوں ممالک کے مابین مختلف شعبوں میں تعلقات میں زبردست پیشرفت اور درجنوں معاہدوں پر دستخط ہونے کے باوجود اسرائیلیوں کے ابو ظہبی کے دورے سینئر ملازمین تک ہی محدود ہیں اور ان میں سے بیشتر کا تعلق وزیر اعظم کے دفتر، قومی سلامتی کونسل یا موساد یعنی غیر ملکی انٹیلی جنس سے ہے۔(۔۔۔)
منگل 03 شعبان المعظم 1442 ہجرى – 16 مارچ 2021ء شماره نمبر [15449]