میانمار میں ڈاکٹر اور نرس مظاہرین میں ہوئے شریک

میانمار میں ڈاکٹر اور نرس مظاہرین میں ہوئے شریک

پیر, 22 March, 2021 - 10:45
گزشتہ روز منڈلائی میں ایک مظاہرے کے دوران مظاہرین کو آنسو گولے سے پناہ لیتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے (رائٹرز)
فرانسیسی نیوز ایجنسی کے مطابق سفید قمیض پہنے ڈاکٹروں اور نرسوں کی ایک بڑی تعداد کے ساتھ ساتھ جمہوریت کے حامی مظاہرین نے میانمار میں دن رات مظاہرے کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور یہ حکمران فوجی گروپ کے ذریعہ ہونے والے اس خونی جبر کے لئے ایک نیا چیلنج ہے جس نتیجہ میں فروری میں ہونے والے انقلاب کے بعد سے 250 افراد فربان ہوئے ہیں۔

منڈلائی (مرکز) میں طلوع فجر سے عین قبل جمع ہوئے مظاہرین نے "ہمارے مستقبل کو بچائیں" اور "ہمارے رہنما کو بچائیں" جیسے لکھے ہوئے بینرز اٹھا رکھے تھے جس میں آنگ سان سوچی کی طرف اشارہ تھا جنھیں 49 دن سے فوج نے ایک خفیہ مقام پر رکھا ہوا ہے اور سنیچر سے اتوار کی درمیانی شب کے دوران ملک کے دور شمال اور مرکز میں دیگر اجتماعات کا بھی انعقاد کیا گیا ہے اور یہ سیکیورٹی فورسز کے ذریعہ ہونے والے خونی جبر کو ناکام بنانے کی کوشش میں کیا گیا ہے اور مظاہرین نے اقوام متحدہ سے مداخلت کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے موم بتیاں روشن کیا ہے۔


فوجی حکومت کے خلاف احتجاج کے لئے ڈاکٹر، اساتذہ، بینک اور ریلوے کے ملازمین چھ ہفتوں سے ہڑتال پر ہیں اور انہوں نے ان پورے معاشی شعبوں کو مفلوج کررکھا ہے جو بغاوت سے پہلے ہی کمزور تھے۔(۔۔۔)


پیر 09 شعبان المعظم 1442 ہجرى – 22 مارچ 2021ء شماره نمبر [15455]


انتخاباتِ مدير

ملٹی میڈیا