آج اسرائیل میں دائیں طرف کے رجحان کے ساتھ ووٹ ہو رہی ہے

انتخابات سے ایک روز قبل انتخابی تقریب میں لیکود اور نیتن یاہو کے حامیوں کو دیکھا جا سکتا ہے (ای پی اے)
انتخابات سے ایک روز قبل انتخابی تقریب میں لیکود اور نیتن یاہو کے حامیوں کو دیکھا جا سکتا ہے (ای پی اے)
TT

آج اسرائیل میں دائیں طرف کے رجحان کے ساتھ ووٹ ہو رہی ہے

انتخابات سے ایک روز قبل انتخابی تقریب میں لیکود اور نیتن یاہو کے حامیوں کو دیکھا جا سکتا ہے (ای پی اے)
انتخابات سے ایک روز قبل انتخابی تقریب میں لیکود اور نیتن یاہو کے حامیوں کو دیکھا جا سکتا ہے (ای پی اے)
چھے ملین اسرائیلی آج دو سال سے بھی کم عرصے میں چوتھے قانون ساز انتخابات میں ووٹ ڈال رہے ہیں لیکن اس بار خاص طور پر فلسطینیوں کے ساتھ تنازعہ کے سلسلے میں رائے دہندگان کا حق زیادہ دائیں طرف جارہا ہے۔

جبکہ اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاھو رائے عامہ کے نتائج میں پیش پیش ہیں لیکن یہ یقینی نہیں ہے کہ وہ حکومت بنانے کے قابل پارلیمانی اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہوں گے کیوںکہ اکثریت حاصل کرنے کے لئے انہیں اتحاد بنانے کے لئے شراکت داروں کی ضرورت ہوگی تاکہ کنیسٹ کی 120 نشستوں میں سے 61 نشستیں ان کے ساتھ ہوں۔

رائے عامہ کے انتخابات نے یہ پیش گوئی کی ہے کہ اسرائیل کی تاریخ میں یہ کنسیٹ سب سے زیادہ انتہا پسند ہوگا کیوںکہ دایاں بازو اور انتہاپسند دایاں بازو 80 نشستوں پر قابض ہوں گے۔(۔۔۔)

منگل 10 شعبان المعظم 1442 ہجرى – 23 مارچ 2021ء شماره نمبر [15456]



دی ہیگ میں "نسل کشی" کے الزام کے بارے میں اسرائیلی تشویش

بین الاقوامی عدالت انصاف کے پینل نے کل دی ہیگ میں جنوبی افریقہ کی طرف سے اسرائیل کے خلاف دائر کردہ "نسل کشی" کے مقدمے کی سماعت کا آغاز کیا (ای پی اے)
بین الاقوامی عدالت انصاف کے پینل نے کل دی ہیگ میں جنوبی افریقہ کی طرف سے اسرائیل کے خلاف دائر کردہ "نسل کشی" کے مقدمے کی سماعت کا آغاز کیا (ای پی اے)
TT

دی ہیگ میں "نسل کشی" کے الزام کے بارے میں اسرائیلی تشویش

بین الاقوامی عدالت انصاف کے پینل نے کل دی ہیگ میں جنوبی افریقہ کی طرف سے اسرائیل کے خلاف دائر کردہ "نسل کشی" کے مقدمے کی سماعت کا آغاز کیا (ای پی اے)
بین الاقوامی عدالت انصاف کے پینل نے کل دی ہیگ میں جنوبی افریقہ کی طرف سے اسرائیل کے خلاف دائر کردہ "نسل کشی" کے مقدمے کی سماعت کا آغاز کیا (ای پی اے)

جنوبی افریقہ کی طرف سے دی ہیگ میں بین الاقوامی عدالت انصاف کے سامنے اسرائیل کے خلاف دائر کیے گئے مقدمے کے نتائج کے بارے میں اسرائیلی حکومت میں تشویش پائی جاتی ہے۔ اقوام متحدہ کے اعلیٰ ترین عدالتی ادارے کی نمائندگی کرنے والی اس عدالت، جس کا صدر دفتر دی ہیگ میں ہے، نے کل جمعرات کے روز سے سماعت کا آغاز کیا جو دو دن تک جاری رہے گی۔

پریٹوریا نے عبرانی ریاست پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے غزہ کی پٹی میں "نسل کشی کی روک تھام" معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے اور جو اسرائیل غزہ کی پٹی میں کر رہا ہے اس کا جواز 7 اکتوبر 2023 کو تحریک "حماس" کی طرف سے شروع کیے گئے حملے ہرگز نہیں ہو سکتے۔

جنوبی افریقہ نے عدالت میں دائر 84 صفحات پر مشتمل شکایت میں ججوں پر زور دیا ہے کہ وہ اسرائیل کو غزہ کی پٹی میں "فوری طور پر اپنی فوجی کاروائیاں بند کرنے" کا حکم دیں۔ کیونکہ اس کا یہ خیال ہے کہ اسرائیل نے "غزہ میں فلسطینی عوام کے خلاف نسل کشی کی کاروائیاں کی ہیں، وہ کر رہا ہے اور آئندہ بھی جاری رکھ سکتا ہے۔" عدالت میں جنوبی افریقہ کے وفد کی وکیل عدیلہ ہاشم نے کہا کہ "عدالت کے پاس پہلے ہی سے پچھلے 13 ہفتوں کے دوران جمع شدہ شواہد موجود ہیں جو بلاشبہ اس کے طرز عمل اور ارادوں کو ظاہر کرتے ہوئے نسل کشی کے معقول الزام کو جواز بناتے ہیں۔" (...)

جمعہ-30 جمادى الآخر 1445ہجری، 12 جنوری 2024، شمارہ نمبر[16481]