ریاست سے مذہب کو الگ کرنے والا سوڈانی اصولوں کا اعلانhttps://urdu.aawsat.com/home/article/2900401/%D8%B1%DB%8C%D8%A7%D8%B3%D8%AA-%D8%B3%DB%92-%D9%85%D8%B0%DB%81%D8%A8-%DA%A9%D9%88-%D8%A7%D9%84%DA%AF-%DA%A9%D8%B1%D9%86%DB%92-%D9%88%D8%A7%D9%84%D8%A7-%D8%B3%D9%88%DA%88%D8%A7%D9%86%DB%8C-%D8%A7%D8%B5%D9%88%D9%84%D9%88%DA%BA-%DA%A9%D8%A7-%D8%A7%D8%B9%D9%84%D8%A7%D9%86
ریاست سے مذہب کو الگ کرنے والا سوڈانی اصولوں کا اعلان
گزشتہ روز جوبا میں اصولوں کے اعلامیہ پر دستخط کرنے کے بعد الحلو کے بیچ میں البرہان اور سلوا کیر کو دیکھا جا سکتا ہے (رائٹرز)
سوڈانی عبوری خودمختاری کونسل کے سربراہ عبد الفتاح البرہان اور ایس پی ایل ایم شمالی سیکٹر کے سربراہ عبد العزیز آدم الحلو نے گزشتہ روز جنوبی سوڈان کے دارالحکومت جوبا میں مذہب کو الگ کرنے والے اصولوں کے اعلان پر دستخط کیا ہے اور اس معاہدے پر جنوبی سوڈان کی حکومت کے صدر سلوا کیر مایارڈٹ کے علاوہ ورلڈ فوڈ پروگرام کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈیوڈ بیسلی نے بطور گواہ دستخط کیا ہے۔
اصولوں کے اعلامیہ میں ایک شہری، جمہوری، وفاقی ریاست کے قیام کا ذکر ہے جس میں مذہب، مذہبی رواج اور عبادت کی آزادی کی ضمانت ہوگی اور دونوں فریقوں نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ ملک کسی پر مذہب مسلط نہیں کرے گا اور ملک میں نہ ہی کوئی سرکاری مذہب ہوگا۔(۔۔۔)
دی ہیگ میں "نسل کشی" کے الزام کے بارے میں اسرائیلی تشویشhttps://urdu.aawsat.com/%D8%AE%D8%A8%D8%B1%D9%8A%DA%BA/4785126-%D8%AF%DB%8C-%DB%81%DB%8C%DA%AF-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D9%86%D8%B3%D9%84-%DA%A9%D8%B4%DB%8C-%DA%A9%DB%92-%D8%A7%D9%84%D8%B2%D8%A7%D9%85-%DA%A9%DB%92-%D8%A8%D8%A7%D8%B1%DB%92-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D8%A7%D8%B3%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%8C%D9%84%DB%8C-%D8%AA%D8%B4%D9%88%DB%8C%D8%B4
دی ہیگ میں "نسل کشی" کے الزام کے بارے میں اسرائیلی تشویش
بین الاقوامی عدالت انصاف کے پینل نے کل دی ہیگ میں جنوبی افریقہ کی طرف سے اسرائیل کے خلاف دائر کردہ "نسل کشی" کے مقدمے کی سماعت کا آغاز کیا (ای پی اے)
جنوبی افریقہ کی طرف سے دی ہیگ میں بین الاقوامی عدالت انصاف کے سامنے اسرائیل کے خلاف دائر کیے گئے مقدمے کے نتائج کے بارے میں اسرائیلی حکومت میں تشویش پائی جاتی ہے۔ اقوام متحدہ کے اعلیٰ ترین عدالتی ادارے کی نمائندگی کرنے والی اس عدالت، جس کا صدر دفتر دی ہیگ میں ہے، نے کل جمعرات کے روز سے سماعت کا آغاز کیا جو دو دن تک جاری رہے گی۔
پریٹوریا نے عبرانی ریاست پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے غزہ کی پٹی میں "نسل کشی کی روک تھام" معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے اور جو اسرائیل غزہ کی پٹی میں کر رہا ہے اس کا جواز 7 اکتوبر 2023 کو تحریک "حماس" کی طرف سے شروع کیے گئے حملے ہرگز نہیں ہو سکتے۔
جنوبی افریقہ نے عدالت میں دائر 84 صفحات پر مشتمل شکایت میں ججوں پر زور دیا ہے کہ وہ اسرائیل کو غزہ کی پٹی میں "فوری طور پر اپنی فوجی کاروائیاں بند کرنے" کا حکم دیں۔ کیونکہ اس کا یہ خیال ہے کہ اسرائیل نے "غزہ میں فلسطینی عوام کے خلاف نسل کشی کی کاروائیاں کی ہیں، وہ کر رہا ہے اور آئندہ بھی جاری رکھ سکتا ہے۔" عدالت میں جنوبی افریقہ کے وفد کی وکیل عدیلہ ہاشم نے کہا کہ "عدالت کے پاس پہلے ہی سے پچھلے 13 ہفتوں کے دوران جمع شدہ شواہد موجود ہیں جو بلاشبہ اس کے طرز عمل اور ارادوں کو ظاہر کرتے ہوئے نسل کشی کے معقول الزام کو جواز بناتے ہیں۔" (...)
جمعہ-30 جمادى الآخر 1445ہجری، 12 جنوری 2024، شمارہ نمبر[16481]