المقداد کے پیغام پر یورپ کے ردعمل سے دمشق میں مایوس کا ماحولhttps://urdu.aawsat.com/home/article/2906581/%D8%A7%D9%84%D9%85%D9%82%D8%AF%D8%A7%D8%AF-%DA%A9%DB%92-%D9%BE%DB%8C%D8%BA%D8%A7%D9%85-%D9%BE%D8%B1-%DB%8C%D9%88%D8%B1%D9%BE-%DA%A9%DB%92-%D8%B1%D8%AF%D8%B9%D9%85%D9%84-%D8%B3%DB%92-%D8%AF%D9%85%D8%B4%D9%82-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D9%85%D8%A7%DB%8C%D9%88%D8%B3-%DA%A9%D8%A7-%D9%85%D8%A7%D8%AD%D9%88%D9%84
المقداد کے پیغام پر یورپ کے ردعمل سے دمشق میں مایوس کا ماحول
گزشتہ ماہ 30ویں برسلز کانفرنس میں خارجی اور سلامتی امور کے یورپی کمشنر جوزف بورل کو دیکھا جا سکتا ہے (رائٹرز)
شام کے وزیر خارجہ فیصل المقداد کے ذریعہ متعدد یوروپی ممالک کے وزرا کو بھیجے گئے غیر اعلان کردہ تحریری خط پر یورپی ردعمل سے دمشق مایوس چھا گئی ہے اور اس خط میں یورپی یونین کے دائرہ کار میں کسی بھی قسم کے نئے مواقف اختیار کئے بغیر دمشق کے ساتھ آزادانہ گفتگو اور مسئلہ کے حل کا مطالبہ شامل ہے۔
"الشرق الاوسط" کو ملی اس خط کی ایک کاپی کے مطابق المقداد نے آسٹریا، رومانیہ، اٹلی، یونان اور ہنگری سمیت متعدد ممالک کے متعدد وزرائے خارجہ کو لکھے گئے خط میں مستقبل میں کچھ مشہور حکومتوں کی طرف سے غلط پالیسیاں اپنانے کی اجازت نہ دینے کے سلسلہ میں کام کرنے کے لئے سخت سالوں کے اسباق سے استفادہ کرنے پر آمادہ کیا ہے۔(۔۔۔)
دی ہیگ میں "نسل کشی" کے الزام کے بارے میں اسرائیلی تشویشhttps://urdu.aawsat.com/%D8%AE%D8%A8%D8%B1%D9%8A%DA%BA/4785126-%D8%AF%DB%8C-%DB%81%DB%8C%DA%AF-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D9%86%D8%B3%D9%84-%DA%A9%D8%B4%DB%8C-%DA%A9%DB%92-%D8%A7%D9%84%D8%B2%D8%A7%D9%85-%DA%A9%DB%92-%D8%A8%D8%A7%D8%B1%DB%92-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D8%A7%D8%B3%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%8C%D9%84%DB%8C-%D8%AA%D8%B4%D9%88%DB%8C%D8%B4
دی ہیگ میں "نسل کشی" کے الزام کے بارے میں اسرائیلی تشویش
بین الاقوامی عدالت انصاف کے پینل نے کل دی ہیگ میں جنوبی افریقہ کی طرف سے اسرائیل کے خلاف دائر کردہ "نسل کشی" کے مقدمے کی سماعت کا آغاز کیا (ای پی اے)
جنوبی افریقہ کی طرف سے دی ہیگ میں بین الاقوامی عدالت انصاف کے سامنے اسرائیل کے خلاف دائر کیے گئے مقدمے کے نتائج کے بارے میں اسرائیلی حکومت میں تشویش پائی جاتی ہے۔ اقوام متحدہ کے اعلیٰ ترین عدالتی ادارے کی نمائندگی کرنے والی اس عدالت، جس کا صدر دفتر دی ہیگ میں ہے، نے کل جمعرات کے روز سے سماعت کا آغاز کیا جو دو دن تک جاری رہے گی۔
پریٹوریا نے عبرانی ریاست پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے غزہ کی پٹی میں "نسل کشی کی روک تھام" معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے اور جو اسرائیل غزہ کی پٹی میں کر رہا ہے اس کا جواز 7 اکتوبر 2023 کو تحریک "حماس" کی طرف سے شروع کیے گئے حملے ہرگز نہیں ہو سکتے۔
جنوبی افریقہ نے عدالت میں دائر 84 صفحات پر مشتمل شکایت میں ججوں پر زور دیا ہے کہ وہ اسرائیل کو غزہ کی پٹی میں "فوری طور پر اپنی فوجی کاروائیاں بند کرنے" کا حکم دیں۔ کیونکہ اس کا یہ خیال ہے کہ اسرائیل نے "غزہ میں فلسطینی عوام کے خلاف نسل کشی کی کاروائیاں کی ہیں، وہ کر رہا ہے اور آئندہ بھی جاری رکھ سکتا ہے۔" عدالت میں جنوبی افریقہ کے وفد کی وکیل عدیلہ ہاشم نے کہا کہ "عدالت کے پاس پہلے ہی سے پچھلے 13 ہفتوں کے دوران جمع شدہ شواہد موجود ہیں جو بلاشبہ اس کے طرز عمل اور ارادوں کو ظاہر کرتے ہوئے نسل کشی کے معقول الزام کو جواز بناتے ہیں۔" (...)
جمعہ-30 جمادى الآخر 1445ہجری، 12 جنوری 2024، شمارہ نمبر[16481]