بغداد کے ساتھ اسٹریٹجک گفت وشنید کے تیسرے دور کے دوران واشنگٹن نے کل عراق میں اپنی آخری جنگی فوجوں کو واپس لینے پر اتفاق کیا ہے جہاں وہ اب بھی "داعش" تنظیم کے شدت پسندوں کا مقابلہ کرنے کے لئے تعینات ہیں اور ان فرضی اسٹریٹجک مذاکرات کے بعد دونوں فریقوں نے ایک مشترکہ بیان میں اس بات کی تصدیق کی ہے کہ امریکہ اور اتحادی افواج کی مشن تربیت اور مشورے میں تبدیل ہوچکی ہے اور اس طرح عراق میں اب کسی بھی جنگی قوت کی دوبارہ تعیناتی کا امکان ہو سکتا ہے بشرطیکہ مذاکرات کے دوران ٹائم ٹیبل (اس کے لئے) طے کیا جائے گا۔
اجلاس کا افتتاح امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن اور ان کے عراقی ہم منصب فواد حسین نے کیا ہے اور بلنکن نے اپنی تقریر میں کہا ہے کہ آج ہماری ملاقات سے امریکہ اور عراق کے مابین شراکت کے تعلقات کی تصدیق ہوتی ہے۔(۔۔۔)
جمعرات 26 شعبان المعظم 1442 ہجرى – 08 اپریل 2021ء شماره نمبر [15472]