"ویانا" کے چوتھے دور کے اختتام کے بعد محتاط امید بچی ہوئی ہے

ایرانی مذاکرات کار اور بین الاقوامی تنظیموں میں ایران کے سفیر کو کل ویانا اجلاس کے بعد روانہ ہوتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے (رائٹرز)
ایرانی مذاکرات کار اور بین الاقوامی تنظیموں میں ایران کے سفیر کو کل ویانا اجلاس کے بعد روانہ ہوتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے (رائٹرز)
TT

"ویانا" کے چوتھے دور کے اختتام کے بعد محتاط امید بچی ہوئی ہے

ایرانی مذاکرات کار اور بین الاقوامی تنظیموں میں ایران کے سفیر کو کل ویانا اجلاس کے بعد روانہ ہوتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے (رائٹرز)
ایرانی مذاکرات کار اور بین الاقوامی تنظیموں میں ایران کے سفیر کو کل ویانا اجلاس کے بعد روانہ ہوتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے (رائٹرز)
گزشتہ روز 2015 میں ایران اور بڑی طاقتوں کے مابین طے پانے والے جوہری معاہدے کی بحالی کے مقصد سے ویانا مذاکرات کے چوتھے دور کے اختتام کے ساتھ ہی اگلے ہفتے طے شدہ اگلے مرحلے میں کسی معاہدے تک پہنچنے کے بارے میں محتاط امید پیدا ہوئی ہے۔

یورپی "ٹرویکا" (فرانس، جرمنی اور برطانیہ) کے سفارتکاروں نے اگلے دور میں معاہدے تک پہنچنے کے بارے میں توقعات کو کم کیا ہے اور تینوں یورپی ممالک نے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ ایران کے لئے ضروری ہے کہ وہ آئی اے ای اے کو جوہری معاہدے پر اپنی نگرانی جاری رکھنے کی اجازت دے۔

اسی سلسلہ میں یوروپی یونین کے مذاکرات کے کوآرڈینیٹر اینریک مورا نے کل کہا ہے کہ انہیں مکمل اعتماد ہے کہ حتمی معاہدہ ہوگا اور انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے سکریٹری جنرل رافیل گروسی کے درمیان مشاورت ہورہی ہے اور ویانا میں ایرانی وفد اپنی میعاد ختم ہونے والے تکنیکی معاہدے کی آخری تاریخ میں توسیع کرے گا جس کی وجہ سے ہفتے کو سیاسی مذاکرات کی تکمیل کے انتظار میں بنیادی معائنے کی کاروائیوں کو بحال کرنے کی اجازت دی جائے گی۔(۔۔۔)

جمعرات 08 شوال المعظم 1442 ہجرى – 20 مئی 2021ء شماره نمبر [15514]