پیرس میں لبنانی فوج کے کمانڈر کا غیر معمولی استقبال

جنرل جوزف عون اور فرانسیسی وزیر دفاع فلورنس پارلی کو دیکھا جا سکتا ہے
جنرل جوزف عون اور فرانسیسی وزیر دفاع فلورنس پارلی کو دیکھا جا سکتا ہے
TT

پیرس میں لبنانی فوج کے کمانڈر کا غیر معمولی استقبال

جنرل جوزف عون اور فرانسیسی وزیر دفاع فلورنس پارلی کو دیکھا جا سکتا ہے
جنرل جوزف عون اور فرانسیسی وزیر دفاع فلورنس پارلی کو دیکھا جا سکتا ہے
جنرل جوزف عون کا پیرس کا دورہ فرانس کی دارالحکومت لبنانی فوج کے ایک کمانڈر کے ذریعہ پہلا نہیں ہے تاہم عون کا دورہ مہمان نوازی کے لحاظ سے قابل ذکر ہے اور خاص طور پر الیزیہ محل میں فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کے ذریعہ جو استقبال کا منظر پیش کیا گیا ہے اور اس اقدام کو پروٹوکول کے اعتبار سے غیر معمولی سمجھا گیا ہے اور اس کو صرف تباہ کن پیشرفت کی روشنی میں ہی سمجھا جاسکتا ہے جس سے لبنان کو سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور لبنان کے سیاسی طبقے کو اپنا بچاؤ اقدام اٹھانے کے لئے پیرس کے ذریعہ دباؤ ڈالے جانے میں ناکامی ملی ہے اور یاد رہے کہ یہ اقدام میکرون نے گزشتہ موسم گرما میں لبنان کے اپنے دو دوروں کے دوران تجویز کیا تھا۔

یہ بات واضح ہے کہ ان مذاکرات کا نمایاں حصہ وہی ہے جو فرانسیسی وزیر دفاع فلورنس پارلی کی زبانی سامنے آئی ہےاور الیزیہ محل نے میکرون کی زبانی نقل کیا ہے اور وہ یہ ہے کہ پیرس لبنانی فوج کو لبنان میں حقیقی استحکام کی سنگ بنیاد سمجھتا ہے اور انہیں زندگی کے ان چیلنجوں کا سامنا ہے جن کے بارے میں ان تین اہم ملاقاتوں میں تبادلہ کیا گیا ہے جن کا انعقاد جنرل جوزف عون نے اپنے فرانسیسی ہم منصب چیف آف اسٹاف، وزیر دفاع اور صدر جمہوریہ کے ساتھ کیا ہے۔(۔۔۔)

جمعہ 16 شوال المعظم 1442 ہجرى – 28 مئی 2021ء شماره نمبر [15522]



دی ہیگ میں "نسل کشی" کے الزام کے بارے میں اسرائیلی تشویش

بین الاقوامی عدالت انصاف کے پینل نے کل دی ہیگ میں جنوبی افریقہ کی طرف سے اسرائیل کے خلاف دائر کردہ "نسل کشی" کے مقدمے کی سماعت کا آغاز کیا (ای پی اے)
بین الاقوامی عدالت انصاف کے پینل نے کل دی ہیگ میں جنوبی افریقہ کی طرف سے اسرائیل کے خلاف دائر کردہ "نسل کشی" کے مقدمے کی سماعت کا آغاز کیا (ای پی اے)
TT

دی ہیگ میں "نسل کشی" کے الزام کے بارے میں اسرائیلی تشویش

بین الاقوامی عدالت انصاف کے پینل نے کل دی ہیگ میں جنوبی افریقہ کی طرف سے اسرائیل کے خلاف دائر کردہ "نسل کشی" کے مقدمے کی سماعت کا آغاز کیا (ای پی اے)
بین الاقوامی عدالت انصاف کے پینل نے کل دی ہیگ میں جنوبی افریقہ کی طرف سے اسرائیل کے خلاف دائر کردہ "نسل کشی" کے مقدمے کی سماعت کا آغاز کیا (ای پی اے)

جنوبی افریقہ کی طرف سے دی ہیگ میں بین الاقوامی عدالت انصاف کے سامنے اسرائیل کے خلاف دائر کیے گئے مقدمے کے نتائج کے بارے میں اسرائیلی حکومت میں تشویش پائی جاتی ہے۔ اقوام متحدہ کے اعلیٰ ترین عدالتی ادارے کی نمائندگی کرنے والی اس عدالت، جس کا صدر دفتر دی ہیگ میں ہے، نے کل جمعرات کے روز سے سماعت کا آغاز کیا جو دو دن تک جاری رہے گی۔

پریٹوریا نے عبرانی ریاست پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے غزہ کی پٹی میں "نسل کشی کی روک تھام" معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے اور جو اسرائیل غزہ کی پٹی میں کر رہا ہے اس کا جواز 7 اکتوبر 2023 کو تحریک "حماس" کی طرف سے شروع کیے گئے حملے ہرگز نہیں ہو سکتے۔

جنوبی افریقہ نے عدالت میں دائر 84 صفحات پر مشتمل شکایت میں ججوں پر زور دیا ہے کہ وہ اسرائیل کو غزہ کی پٹی میں "فوری طور پر اپنی فوجی کاروائیاں بند کرنے" کا حکم دیں۔ کیونکہ اس کا یہ خیال ہے کہ اسرائیل نے "غزہ میں فلسطینی عوام کے خلاف نسل کشی کی کاروائیاں کی ہیں، وہ کر رہا ہے اور آئندہ بھی جاری رکھ سکتا ہے۔" عدالت میں جنوبی افریقہ کے وفد کی وکیل عدیلہ ہاشم نے کہا کہ "عدالت کے پاس پہلے ہی سے پچھلے 13 ہفتوں کے دوران جمع شدہ شواہد موجود ہیں جو بلاشبہ اس کے طرز عمل اور ارادوں کو ظاہر کرتے ہوئے نسل کشی کے معقول الزام کو جواز بناتے ہیں۔" (...)

جمعہ-30 جمادى الآخر 1445ہجری، 12 جنوری 2024، شمارہ نمبر[16481]