شام میں جلد از وقت انتخابات کرانے کے بارے میں روسی اشارہhttps://urdu.aawsat.com/home/article/3009666/%D8%B4%D8%A7%D9%85-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D8%AC%D9%84%D8%AF-%D8%A7%D8%B2-%D9%88%D9%82%D8%AA-%D8%A7%D9%86%D8%AA%D8%AE%D8%A7%D8%A8%D8%A7%D8%AA-%DA%A9%D8%B1%D8%A7%D9%86%DB%92-%DA%A9%DB%92-%D8%A8%D8%A7%D8%B1%DB%92-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D8%B1%D9%88%D8%B3%DB%8C-%D8%A7%D8%B4%D8%A7%D8%B1%DB%81
شام میں جلد از وقت انتخابات کرانے کے بارے میں روسی اشارہ
گزشتہ روز اقوام متحدہ میں واشنگٹن کے مندوب لنڈا تھامس گرین فیلڈ کے ذریعہ ترک شام کی سرحد کا دورہ کرنے کے منظر کو دیکھا جا سکتا ہے (رائٹرز)
روس کے نائب وزیر خارجہ میخائل بوگڈانوف نے شام میں قبل از وقت انتخابات کے امکان کی طرف اشارہ کیا ہے اور اشارہ دمشق کی جانب سے صدر بشار الاسد کے سات سال کی نئی میعاد جیتنے کے اعلان کے چند دنوں بعد کیا گیا ہے۔ مشرق وسطی اور افریقی ممالک کے لئے روسی صدر ولادیمیر پوتن کے خصوصی ایلچی بوگڈانوف نے کل (جمعرات) کو پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم کے موقع پر صحافیوں کو بتایا ہے کہ اگر شامی جماعتیں کسی معاہدے پر پہنچ جاتی ہیں اور ان کے کام کے نتائج برآمد ہوجاتے ہیں تو نئے آئین یا اصلاحات کے مطابق انتخابات کا انعقاد ممکن ہے اور یہ موجودہ آئین کی تقاضوں کے مطابق سات سال کے بعد نہیں بلکہ اس سے پہلے بھی ہوسکتا ہے لیکن اس معاملے میں شامی باشندوں میں اتفاق رائے کی ضرورت ہے۔(۔۔۔)
دی ہیگ میں "نسل کشی" کے الزام کے بارے میں اسرائیلی تشویشhttps://urdu.aawsat.com/%D8%AE%D8%A8%D8%B1%D9%8A%DA%BA/4785126-%D8%AF%DB%8C-%DB%81%DB%8C%DA%AF-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D9%86%D8%B3%D9%84-%DA%A9%D8%B4%DB%8C-%DA%A9%DB%92-%D8%A7%D9%84%D8%B2%D8%A7%D9%85-%DA%A9%DB%92-%D8%A8%D8%A7%D8%B1%DB%92-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D8%A7%D8%B3%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%8C%D9%84%DB%8C-%D8%AA%D8%B4%D9%88%DB%8C%D8%B4
دی ہیگ میں "نسل کشی" کے الزام کے بارے میں اسرائیلی تشویش
بین الاقوامی عدالت انصاف کے پینل نے کل دی ہیگ میں جنوبی افریقہ کی طرف سے اسرائیل کے خلاف دائر کردہ "نسل کشی" کے مقدمے کی سماعت کا آغاز کیا (ای پی اے)
جنوبی افریقہ کی طرف سے دی ہیگ میں بین الاقوامی عدالت انصاف کے سامنے اسرائیل کے خلاف دائر کیے گئے مقدمے کے نتائج کے بارے میں اسرائیلی حکومت میں تشویش پائی جاتی ہے۔ اقوام متحدہ کے اعلیٰ ترین عدالتی ادارے کی نمائندگی کرنے والی اس عدالت، جس کا صدر دفتر دی ہیگ میں ہے، نے کل جمعرات کے روز سے سماعت کا آغاز کیا جو دو دن تک جاری رہے گی۔
پریٹوریا نے عبرانی ریاست پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے غزہ کی پٹی میں "نسل کشی کی روک تھام" معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے اور جو اسرائیل غزہ کی پٹی میں کر رہا ہے اس کا جواز 7 اکتوبر 2023 کو تحریک "حماس" کی طرف سے شروع کیے گئے حملے ہرگز نہیں ہو سکتے۔
جنوبی افریقہ نے عدالت میں دائر 84 صفحات پر مشتمل شکایت میں ججوں پر زور دیا ہے کہ وہ اسرائیل کو غزہ کی پٹی میں "فوری طور پر اپنی فوجی کاروائیاں بند کرنے" کا حکم دیں۔ کیونکہ اس کا یہ خیال ہے کہ اسرائیل نے "غزہ میں فلسطینی عوام کے خلاف نسل کشی کی کاروائیاں کی ہیں، وہ کر رہا ہے اور آئندہ بھی جاری رکھ سکتا ہے۔" عدالت میں جنوبی افریقہ کے وفد کی وکیل عدیلہ ہاشم نے کہا کہ "عدالت کے پاس پہلے ہی سے پچھلے 13 ہفتوں کے دوران جمع شدہ شواہد موجود ہیں جو بلاشبہ اس کے طرز عمل اور ارادوں کو ظاہر کرتے ہوئے نسل کشی کے معقول الزام کو جواز بناتے ہیں۔" (...)
جمعہ-30 جمادى الآخر 1445ہجری، 12 جنوری 2024، شمارہ نمبر[16481]