لبنان کے سیاسی حلقہ کو صدر مائکل عون کی طرف سے بڑھتی ہوئی کشیدگی سے حیرت ہوئی ہے کہ انہوں نے پارلیمنٹ کے اسپیکر نبیح بری کو نشانہ بنایا ہے اگرچہ انہوں نے ان کا نام نہیں لیا ہے اور یہ اس اقدام کے پس منظر میں ہوا ہے جو انہوں نے حکومتی بحران سے نکلنے کے لئے شروع کیا تھا اور عون اپنے حملہ میں یہ کہہ رہے ہیں کہ اس اقدام میں جان بوجھ کر یا انجانے میں اس دستوری میکنزم سے غفلت برتی گئی ہے جس کی پیروی حکومت کی تشکیل میں لازم ہے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ عون کی کشیدگی کی وجہ سے مذاکرات کا فائدہ صفر ہوگا۔
ایک پارلیمانی ذمہ دار نے الشرق الاوسط کو بتایا ہے کہ بری پر عون کی طرف سے ہونے والا یہ اچانک حملہ اس وقت ہوا ہے جب حزب اللہ کی قیادت کو آزاد قومی موومنٹ کے صدر رکن پارلیمنٹ جبران باسیل کی طرف سے بری کے اقدام کے مرکزی عناوین سے انکار کے نوٹیفکیشن ملے ہیں کہ انہوں نے بیری کے اقدام کی سرخی کو مسترد کردیا خواہ فریقوں کے مابین وزارتی محکمے کو انصاف کے ساتھ تقسیم کیا جائے اور دونوں مسیحی وزراء کے لئے معاملہ کو حل کیا جائے اور اس کے علاوہ حکومت کو اعتماد نہ دینے کے سلسلہ میں اصرار بھی ہے۔(۔۔۔)
بدھ 06 ذی قعدہ 1442 ہجرى – 16 جون 2021ء شماره نمبر [15541]