موصل میں ملیشیاؤں کی طرف سے سرکاری املاک کی لوٹ ماری

موصل میں ملیشیاؤں کی طرف سے سرکاری املاک کی لوٹ ماری

بدھ, 23 June, 2021 - 10:00
تجاوزات کی وجہ سے موصل میں ایک آثار قدیمہ کا علاقہ رہائشی محلے میں تبدیل ہوگیا ہے (الشرق الاوسط)
شہریوں اور عہدیداروں نے الشرق الاوسط سے گفتگو کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ نینوای گورنریٹ کے مرکز موصل شہر میں طاقتور سیاسی پارٹیوں اور ملیشیاؤں کے ذریعہ ریاست اور شہریوں کے املاک کو منظم انداز سے لوٹ مار کرنے کا منظر دیکھنے کو ملا ہے۔

موصل کو لوٹ لیا گیا ہے اور ان ملیشیاؤں نے یہاں کی ہر چیز پر قیضہ کر لیا ہے اور یہ ساری معلومات 56 سالہ محمد الحمدانی نے پریشانی کی حالت میں اس وقت بتائی ہے جب ان کو اپنی ٹیکسی کو روکے جانے کا سامنا کرنا پڑا اور انہوں نے ملیشیاؤں اور اقتدار میں آنے والوں پر اس معاملہ کا الزام لگایا ہے  اور 49 سالہ ابوفراس نامی شخص نے تقریبا اپنی زمین کھو دی ہے اور کہا ہے  کہ ایک پڑوسی نے ایک ماہ قبل انہیں فون کرکے بتایا کہ کچھ لوگ رہائشی پلاٹ کو تقسیم کرکے اسے فروخت کرنے کے لئے اس زمین کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں اور وہ مزید کہتے ہیں کہ میرے ایک رشتہ دار کی مداخلت کے بعد ان لوگوں نے کہا کہ اس جگہ کے نمبر میں غلطی ہوئی ہے اور پھر اسے چھوڑ کر چلے گئے۔


شہری منصوبہ بندی کے ماہر فراس سالم الصائغ کا کہنا ہے کہ پارکوں اور عوامی سہولیات کے لئے مختص علاقوں کی 70 فیصد آبادی کو رہائشی زمین میں تبدیل کردیا گیا ہے۔(۔۔۔)


بدھ 13 ذی قعدہ 1442 ہجرى – 23 جون 2021ء شماره نمبر [15548]


انتخاباتِ مدير

ملٹی میڈیا