کابل نے "طالبان" کی پیشرفت کو روکنے کے لئے فورسز اور ملیشیاؤں کو کیا متعین

کابل نے "طالبان" کی پیشرفت کو روکنے کے لئے فورسز اور ملیشیاؤں کو کیا متعین

بدھ, 7 July, 2021 - 15:00
گزشتہ روز دارالحکومت کابل کے وسط میں ایک سیکیورٹی مقام پر ایک افغان فوجی کو دیکھا جا سکتا ہے (اے بی)
کل افغان حکام نے شمال میں "طالبان" کے ذریعہ شروع کیے گئے پُرتشدد حملے کا مقابلہ کرنے کے مقصد سے سیکڑوں خصوصی دستے اور حکومت نواز ملیشیاؤں کو متعین کیا ہے جس کے نتیجے میں ایک ہزار سے زیادہ افغان فوجیوں نے پڑوسی ملک تاجکستان کا رخ کیا ہے۔

وزارت دفاع کے ترجمان فواد امان نے کہا ہے کہ ہم دشمن کے زیر قبضہ اراضی کو دوبارہ حاصل کرنے کے لئے ایک بڑی کارروائی کا ارادہ کر رہے ہیں اور انہوں نے مزید کہا کہ اس آپریشن کے لئے زمین پر ہماری فورسز کو منظم کیا جارہا ہے۔"


اس دوران واشنگٹن میں سیاسی حلقے تنازعات اور الجھنوں کی کیفیت میں ہیں کیونکہ صدر جو بائیڈن نے 11 ستمبر کے حملوں کی بیسویں برسی کے موقع پر افغانستان سے تمام امریکی افواج کے انخلا کے فیصلے کیا ہے اور اس کی تصدیق وزارت دفاع (پینٹاگون) نے بھی کی ہے یہ کہہ کر کہ انخلا کا عمل شیڈول وقت سے پہلے تیز رفتاری کے ساتھ چل رہا ہے۔(۔۔۔)


بدھ 27 ذی قعدہ 1442 ہجرى – 07 جولا‏ئی 2021ء شماره نمبر [15562]


انتخاباتِ مدير

ملٹی میڈیا